مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 272 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 272

۲۷۲ دیا کہ ختنہ کرو اور سبب پوچھا کہ اب تک کیوں نہیں کیں ؟ انہوں نے کہا کہ سو روپیہ میں ختنہ ہوتی ہیں۔ایک اور شخص نے مجھ سے کہا کہ شریعت پر تو عمل ہو سکتا ہی نہیں۔میں نے کہا۔کیوں صاحب تمہارے مراسم پر عمل ہو سکتا ہے ؟ لاجواب ہو کر سوچا اور سمجھ گیا۔(۱۸ مارچ ۱۹۱۰ء) ایک مرتبہ ایک گوہر شاہ شیعہ میرے مکان پر آیا۔مجھ کو پتہ لگا کہ کوئی اور شخص مولوی عبد اللہ مباحثہ کرنا چاہتے ہیں۔اس شخص کو بھیجنے سے مطلب یہ ہے کہ آپ کو ٹولے۔اس نے کہا کہ آپ کو قرطاس کا مسئلہ معلوم ہے ؟ میں نے کہا سیالکوٹ میں بنتا ہے۔اور یورپ میں بہت کاغذ بنتا ہے۔اس نے کہا کہ قرطاس کا کوئی مسئلہ ہے ؟ میں نے کہا۔کاغذ گروں سے دریافت کرو۔اس نے کہا کہ آپ کے مذہب کی کونسی کتاب ہے ؟ میں نے کہا قرآن کافی کتاب ہے۔کہا کوئی اور؟ میں نے کہا کہ اور کتاب زیادہ سے زیادہ بخاری ہے۔کہا بخاری میں کوئی قرطاس کا معاملہ ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں اس میں ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ اہل بیت میں سے ایک لڑکی ام کلثوم سے اپنا ناطہ کرنا چاہتے تھے۔حضور نبی کریم نے جب کاغذ منگایا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لئے خلافت لکھ دیں تو اہل بیت کو فکر ہوئی کہ اگر حضرت ابو بکر کا نام لکھا گیا۔تو بڑی مشکل ہوگی۔لہذا انہوں نے کہا کہ یہ تو سب جانتے ہی ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ ہی خلیفہ ہوں گے۔لکھوانے کی کیا ضرورت ہے ؟ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اہل بیت کی طرف داری کی اور کہا کہ اہل بیت کی بات مان لو اور کاغذ رہنے دو۔پھر اس شیعہ نے کہا کہ فدک کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے ؟ میں نے کہا فدک کیا تھا؟ کہا۔یہودیوں کے باغ تھے۔میں نے کہا۔قرآن شریف سورۃ حشر رکوع میں لکھا ہے کہ یہودیوں کے باغ پر کسی نے گھوڑے نہیں دوڑائے۔یہ مال کسی کا نہیں۔یہ مال مومنوں کا ہے اور مہاجرین کا۔پس معلوم ہوا کہ یہ مال بہت سے لوگوں کا ہے اور ہم کہتے ہیں کہ یہ سنیوں کا ہے وَالَّذِينَ جَاءُو مِنْ