مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 268
۲۶۸ کی۔میں نے کہا کیسے ؟ کہا دو ہزار جگہ قرآن میں خلافت کو شیر خدا کا حق فرمایا ہے " میں نے کہا۔کم سے کم نور الدین تو شیعہ ہو جائے گا۔کہا کہ کل آپ ٹھہریں گے ؟ میں نے کہا۔ہاں۔پھر کئی روز تک شیعہ صاحب نہ آئے۔ایک دن گلی میں مل گئے۔میں نے کہا۔ہم کو تو یہاں منتظر بٹھا گئے اور خود ادھر کا رخ بھی نہ کیا۔کہنے لگے کہ جس مجند کے پاس گیا اسی نے بات تو نہ بتائی اور یہی کہا کہ اس کے پاس نہ جانا۔مجتہدوں کو گالیاں دیتے ہوئے چلے گئے۔(۸) جنوری ۱۹۰۷ء) مجھ سے کسی نے کہا کہ پنڈ دادنخان میں میتا نام ایک کنچنی ہے۔وہ شیعہ گر ہے۔یعنی لوگوں کو جو کوئی اس کے یہاں جاتا ہے ، شیعہ بنا دیتی ہے۔اتفاقا وہ ایک روز بغرض علاج میرے پاس آگئی۔بڑی مشہور اور پڑھی لکھی عورت تھی۔اس کے میراثی نے جو اس کے ساتھ تھا مجھ سے کہا کہ آپ جانتے بھی ہیں یہ کون ہیں؟ میں نے کہا نہیں۔کہا کہ میتا ہے۔میں نے کہا اخاہ ! آپ ہی میتا ہیں۔مجھ کو ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے۔وہ ہنسی اور کہا کہ آپ مجھے سے کیا مسئلہ دریافت کریں گے۔میں نے کہا کہ یہ بتاؤ امام حسین علیہ السلام نے کیوں یزید کی بیعت نہیں کی۔اس نے کہا کہ یزید فاسق یعنی زانی تھا۔اس لئے امام حسین نے بیعت نہیں کی۔میں نے کہا تو امام حسین کو فاسقوں اور زانیوں سے نفرت تھی ؟ کہا ہاں۔میں نے کہا کہ پھر جو خود ترغیب دے اور لوگوں کو زانی بنائے یعنی زنا کرائے اس سے بھلا امام حسین کس طرح خوش ہو سکتے ہیں ؟ کہا میں اس قدر نہیں پڑھی۔لو نبض دیکھو۔(۱۰) فروری ۱۹۰۸ء) میں نے ایک مرتبہ مالیر کوٹلہ میں مولوی شیخ احمد صاحب مجتہد سے کہا۔یہ بتاؤ کہ کیا ثابت کیا جا سکتا ہے یا تمہارا اعتقاد ہے یا کسی شیعہ کا یہ اعتقاد ہے کہ قرآن شریف میں کوئی ایک پوری سورت بنا کر کسی نے داخل کر دی ہے ، خواہ وہ مصنوعی سورت چھوٹی سے چھوٹی کیوں