مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 267
کو تین سو روپیہ دے دو۔اب مالا مال ہو کر مکان کو جا رہی ہوں۔(۲۳) مئی ۱۹۰۹ء) ایک مولوی صاحب نے مجھ سے ذکر کیا کہ ہمارے ایک جنٹلمین دوست تھے۔وہ انگریزی سوسائٹی میں بہت رسوخ رکھتے تھے۔ایک برات کے موقع پر انہوں نے ہم کو شریک ہونے کی ترغیب دی۔ہمارے پاس صرف ستر روپیہ تھے۔ستر روپیہ میں اس جنٹلمین ہی نے ہمارے واسطے ایک سوٹ تیار کرایا اور کوشش کر کے کسی طرح ہم کو برات میں اپنے ساتھ لے گیا۔جب برات میں گئے۔وہاں کھانے کا وقت آیا تو ہم سے کہا کہ کھانے کا سوت (لباس) آپ کو پہننا چاہئے۔اس لباس سے کھانے کی میز پر آپ نہیں جاسکتے۔اسی طرح فٹ بال کالباس اور ہے ، سونے کا اور سیر کا اور وغیرہ۔تین دن تک برات رہی۔ہم تین دن تک لحاف اوڑھے ہوئے بیمار ہی بنے پڑے رہے۔جب تین دن کے بعد رخصت کا وقت آیا۔تب پھر ہمار اوہ لباس کام آیا۔(۶) اکتوبر ۱۹۱۲ء) میں نے کسی امیر کو زکوۃ کا پابند نہیں دیکھا اور سوائے ایک مولوی کے جو وہ بھی میرا بھائی تھا، کسی مولوی کو بھی زکوۃ دیتے نہیں دیکھا اور نہ کسی گدی نشین کو زکوۃ دیتے دیکھا۔شیعہ ( ۲۰ ) جولائی ۱۹۰۷ء) لاہور میں ایک مرتبہ میرا د عظ تھا۔اثنائے تقریر میں میں نے کہا کہ اگر قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرما دیتا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حضرت علی ہی خلیفہ ہونگے تو کیسی جلدی فیصلہ ہو جاتا۔ایک شیعہ نے بعد میں کہا کہ آپ نے بڑے اچنبھے کی بات بیان