مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 261 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 261

۲۶۱ تار کی خبر کا اعتبار کرتے ہو ؟ میں نے کہا کیوں ! اعتبار کیوں نہ کیا جائے۔کہنے لگے حضرت تم کو کیا خبر! ہم تو خوب واقف ہیں۔ایک مرتبہ میرے پاس تار آیا۔میں تار بابو کے پاس گیا کہ اس میں کیا لکھا ہے اس نے کہا کہ اس میں لکھا ہے کہ ” برکٹ بیمار ہے " میں نے اس سے کہا کہ تم پھر دریافت کرو اصل بات کیا ہے۔اس نے پھر یہی کہا کہ " برکٹ بیمار ہے " حالانکہ اصل بات یہ تھی کہ میری لڑکی جس کا نام برکت تھا وہ بیمار تھی لیکن اس بابو نے برکت کا برکٹ ہی بتایا۔بھلا جب نام بھی صحیح نہیں بتا سکتا تو خبر کیا درست بتا ئیں گے۔لہذا تار کی خبر پر ہرگز عمل نہ کیا جائے۔عجیب بات یہ ہے کہ مولوی صاحب بھی ہر گز نہ سمجھ سکے اور مجھ کو خاموش ہی ہونا پڑا۔(۸) اگست ۱۹۰۸ء) ایک مرتبہ شاہدرہ کے اسٹیشن کے قریب ریل میں ایک نوجوان مسلمان نے مجھ سے کوئی مسئلہ دریافت کیا اور اس نے مجھ کو مولوی صاحب کہہ کر مخاطب کیا۔اس کی زبان سے مولوی صاحب کا لفظ سن کر ایک اور سفید ریش مسلمان جو اسی کمرہ میں بیٹھا تھا اور سونے کی انگوٹھیاں بھی پہن رکھی تھیں فورا اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑکی کے قریب گیا اور اپنا منہ ٹھڑ کی سے باہر نکال لیا اور ہماری طرف سے پشت پھیرلی۔میں سمجھ گیا کہ اس کو کوئی نفرت ہے۔میں نے اس نوجوان کو اس کے مسئلہ کا جواب نہایت وضاحت اور تشریح کے ساتھ فلسفیانہ طور پر بآواز بلند بتانا شروع کیا تا کہ وہ سفید ریش بھی ضرور سنے۔وہ مسئلہ دریافت کرنے والا بھی حیران تھا کہ میں نے ایک ذراسی بات دریافت کی تھی۔اس نے اتنی لمبی چوڑی تقریر کی۔جب میں کہہ چکا تو سائل نے میرا شکریہ ادا کیا کہ میری وجہ سے آپ نے نہایت وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا۔اس سفید ریش نے بھی چونکہ میری تمام تقریر سنی تھی۔آخر وہ بھی میری طرف متوجہ ہوا اور کہا کہ یہاں اس گاڑی میں اور کوئی جگہ کہیں جانے کی نہ تھی اس لئے مجبوراً آپ کی باتیں مجھ کو سننی پڑیں۔در اصل بات یہ ہے کہ میں جب کسی شخص کو سنتا