مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 260
۲۶۰ عبد اللہ ٹونکی نے کہا کہ اٹھو چلو۔یہاں تو مطول پر بھی پانی پھر گیا۔وہ سمجھ گیا کہ ضرور کوئی بات ہے۔(۸) اگست ۱۹۰۸ء) ایک شخص ہمارے شہر کا رہنے والا میرا بڑا معتقد تھا او ر اکثر میرے پاس عقیدت سے آتا تھا۔ایک روز میں نے دیکھا کہ جب نماز کا وقت ہوا اور تکبیر ہوئی۔میں نماز پڑھانے کھڑا ہوا تو وہ اٹھ کر چلا گیا۔میں سمجھا کہ اس کو وضو کرنا ہو گا۔لیکن کئی روز کے بعد معلوم ہوا کہ اس نے میرے پیچھے نماز پڑھنی چھوڑ دی ہے۔میں نے وجہ دریافت کی تو کہا کہ میں آپ کو یہ تو مانتا ہوں کہ آپ قرآن وحدیث کے بڑے واقف ہیں اور اسی لئے میں نے آپ کے پاس آمد و رفت ترک نہیں کی۔لیکن چونکہ آپ شیطان پر ایمان لے آئے ہیں اس لئے میں اب آپ کے پیچھے نماز تو نہ پڑھوں گا۔میں نے تعجب سے پوچھا کہ کس طرح؟ اس نے کہا ہاں کوئی جانے یا نہ جانے مگر ہم تو پہچان ہی گئے کہ آپکا شیطان پر بھی ایسا ہی ایمان ہے جیسا خد اتعالیٰ پر۔میں نے کہا آخر کچھ بتاؤ تو سہی بات کیا ہے ؟ کہا کہ انگریز بڑے پکے کافر ہیں اور شیطان کی ان سے دوستی ہے اس لئے ان کے اکثر کام شیطان کرتا ہے۔یہ شیطان کے ذریعہ سے فوراً ایک جگہ سے دوسری جگہ خبر بھیج دیتے ہیں اسی کو تار برقی کہتے ہیں۔میں نے دیکھا کہ فلاں دن آپ نے بھی تار برقی کے ذریعہ خبر بھیجی۔لہذا آپ کے پیچھے نماز ہرگز نہیں پڑھنی چاہئے۔میں سن کر حیران ہی رہ گیا اور کسی طرح یہ ممکن نہ ہوا کہ اس کو سمجھایا جائے۔مجبورا مجھ کو یہی کہنا پڑا کہ بہت اچھا۔ایک دوسرا واقعہ بھی عجیب ہے۔میں کشمیر میں تھا۔وہاں رات کو بذریعہ تار خبر پہنچی کہ رمضان کا چاند دیکھا گیا ہے۔میں نے لوگوں سے کہدیا کہ صبح روزہ رکھیں۔ایک مولوی صاحب جو بڑے مشہور مولوی ہیں۔میرے پاس آئے اور کہا کہ آپ نے روزہ رکھنے کا فتویٰ دیا ہے ؟ میں نے کہا کہ ہاں تار کے ذریعہ سے خبر آگئی ہے۔کہنے لگے۔تو بہ ! تو بہ اکیا تم