مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 254 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 254

۲۵۴ سب مل کر میری مخالفت کے درپے اور منصوبہ بازی میں لگے رہتے تھے۔میں نے ایک دن ان سب کی ضیافت کر دی اور صرف انہیں کی ، ان کے نوکروں کی نہیں۔جب وہ مکان میں سب آگئے تو میں نے اپنے آدمی کو حکم دیا کہ تمام دروازے بند کردو - علاج معالجہ کے سبب بہت سے راجپوت اور فوجی پٹھان میرے معتقد تھے اور مہمان اس بات سے واقف تھے۔لہذا ان کو یہ گمان ہوا کہ اس مکان میں پہلے سے آدمی بلوا کر چھپا رکھے ہیں اور اب ہماری سب کی خبر لی جائے گی۔جو ان میں سب سے بڑا آدمی تھا۔وہ سب سے زیادہ ڈرا۔میں نے ان سے کہا کہ تم ڈرومت۔ہم نے تم کو گرفتار تو کرہی لیا ہے تمہاری جان کو زبان نہیں پہنچے گا۔پھر میں نے اس آدمی سے جو سب سے زیادہ ڈرتا تھا۔مخاطب ہو کر اور کڑک کر کہا کہ اچھا تو شریک ہے یا نہیں ؟ اس نے ڈرتے ہوئے لرزتے ہوئے کہا کہ مجھ کو تو فلاں شخص نے یہ یہ باتیں کہہ کر شامل کیا۔اس شخص نے کہا کہ مجھے کو فلاں نے مجبور کیا۔غرض اس طرح آخر دو آدمیوں پر بات ٹھری کہ تمام سازش کے بانی اور محرک یہ دونوں ہیں۔وہ دونوں چونکہ کمزور تھے اس لئے سب انہیں کے سر ہو گئے۔ان دونوں میں ایک وہی میرا شاگر د تھا۔اس نے کہا میں ان پر بڑی بڑی امیدیں رکھتا تھا۔یہ اگر چاہتے تو مجھے کو بڑی نوکری دلا سکتے تھے۔اس بڑے آدمی نے کہا کہ یہ سو روپیہ کی نوکری تو تجھ کو صرف مولوی صاحب ہی کوششوں سے ملی ہے ورنہ تو کہاں اور یہ نوکری کہاں ؟ وہ سخت لاجواب خموش اور تصویر کی طرح دم بخود تھا۔اب سب کو یقین تھا کہ بس حکم کی دیر ہے اور ہم سب پر کفش کاری شروع ہوتی ہے۔میں نے ان سے کہا کہ میں تو تمہارے سب کے حوصلے دیکھتا تھا۔ے ارجون ۱۹۱۲ء) ایک بڑا شخص اتنی ہزار مربع میل کا مالک تھا ( مہاراجہ کشمیر) اس لئے اس کے پاس سپاہی بہت تھے۔میں نے جس زمانہ میں دیکھا۔اس کے پاس اڑتالیس ہزار فوج تھی۔میں نے کہا کہ آپ نے بہت آدمی دیکھے ہیں۔یہ تو بتائیے بہادر کی تعریف کیا ہے ؟ کہا میں نے تو کوئی بہادر