مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 253
۲۵۳ (۱۹ اکتوبر ۱۹۱۲ء) میں جموں میں تھا۔وہاں دبا کے دنوں میں ایک ہاتھی کو خوب سیاہ کر کے نکالا گیا۔ایک بنارس کا برہمن تھا۔اس کا نام رام ہرک تھا۔اس نے کہا یہ ہاتھی مجھ کو دیا جائے۔لوگوں نے کہا کہ ہاتھی کا دان بڑا منحوس ہوتا ہے۔اس نے کہا بلا سے۔چاہے کچھ ہو۔یہ مجھ کو ضرور ملنا چاہئے۔چونکہ اس نے بہت کوشش کی اہزادہ ہاتھی اسی کو مل گیا اور ساتھ ہی چند روز کا اس کے کھانے پینے کا خرچ بھی۔شہر والوں نے کہا کہ چونکہ تم ہاتھی لئے جاتے ہو یعنی ہاتھی کے ساتھ شہر کی وبا بھی تمہارے ساتھ جائے گی لہذا تم کو پھر کبھی یہاں واپس نہ آنے دیا جائے گا۔برہمن نے کہا بہت اچھا۔میں واپس نہ آؤں گا۔میرے پاس آیا تو میں نے کہا رام ہرک جی بس اب تو تم کبھی اس ملک میں واپس نہ آسکو گے۔کہنے لگا کہ میں اس ہاتھی کو کمپریٹ والوں کے ہاتھ جا کر کم سے کم سو روپیہ کو تو ضرور ہی فروخت کر دوں گا اور ان ہندؤں جاہل بتوں کو پوجنے والی قوم کو دیکھو۔میں کیسا بیوقوف بناتا ہوں اور اسی ملک میں پھر واپس آتا ہوں۔چند روز کے بعد ہم سری نگر گئے تو دیکھا وہاں رام ہرک جی موجود ہیں۔لوگوں نے اس سے کہا کہ تم تو دان کا ہاتھی لے کر گئے تھے۔یہاں کیسے آگئے ؟ اس نے جواب دیا کہ وہ تو میں جموں کی وبالے گیا تھا۔اسی لئے جموں واپس نہیں گیا اگر کشمیر کی وبا کے حصہ کا ہا تھی دو تو وہ ہاتھی لے جاکر پھر یہاں بھی واپس نہ آؤں گا۔(۱۴) تمبر ۱۹۰۹ء) میرا ایک شاگر د تھا۔اس کو مجھ سے حسن ظن تھا۔وہ جموں کشمیر میں میرے پاس گیا۔میں نے اس کے لئے بہت کوشش کی اور وہ سو روپیہ ماہوار کا نوکر ہو گیا۔اب اس کو مجھ سے بدظنی ہوئی کہ یہ اگر چاہتے تو مجھ کو سو روپیہ سے زیادہ کا نوکر کرا دیتے۔اسی بدظنی کو بڑھاتے بڑھاتے اس نے یہاں تک نوبت پہنچائی کہ پندرہ با اثر اشخاص کو اپنے ساتھ ملالیا۔جن میں ایک پندرہ سو روپیہ ماہوار کا نوکر تھا۔باقی سب بھی ایسے ہی معزز تھے۔سب کے