مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 248 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 248

۲۴۸ نے کہا کہ قریباً تمام اہلکاروں کی یہی حالت ہے مگر مہاراج کو سمجھائے کون ؟ میں نے کہا دیکھو ہم ہی کبھی سمجھائیں گے۔اس نے کہا کہ آپ ہی صرف ایسے شخص ہیں۔جن کی تنخواہ ماہ بماہ مقرر ہوئی ہے۔ورنہ چھ ماہی سے کم کسی کو تنخواہ نہیں ملتی۔(۳۱) مئی ۱۹۰۹ء) میں ریاست کشمیر میں ملازم تھا۔وہاں میری بڑی تنخواہ تھی۔بعض اتنی اتنی روپیہ ماہوار کے طبیب مجھ سے اول بیٹھنے کی کوشش کرتے اور میں ان کو آگے بیٹھنے دیتا اور بہت خوش ہو تا۔وہاں ایک بوڑھے آدمی تھے۔انہوں نے بہت سے علوم و فنون کی حدود یعنی ابتدائی تعریفیں یاد کر رکھی تھیں۔بڑے بڑے عالموں سے کسی علم کی تعریف دریافت کرتے۔وہ جو کچھ بیان کرتے یہ اس میں کوئی نہ کوئی نقص نکال دیتے۔کیونکہ پختہ الفاظ تعریفوں کے یاد تھے۔اس طرح ہر شخص پر اپنا رعب بٹھانے کی کوشش کرتے۔ایک دن سر در بار مجھ سے دریافت کیا کہ مولوی صاحب! حکمت کس کو کہتے ہیں؟ میں نے کہا کہ شرک سے لے کر عام بد اخلاقی تک سے بچنے کا نام حکمت ہے۔وہ حیرت سے دریافت کرنے لگے کہ یہ تعریف حکمت کی کس نے لکھی ہے؟ میں نے دہلی کے ایک حکیم سے جو حافظ بھی تھے اور میرے پاس بیٹھے تھے کہا کہ حکیم صاحب! ان کو سورہ بنی اسرائیل کے چوتھے رکوع کا ترجمہ سنادو۔جس میں آتا ہے۔ذَلِكَ مِمَّا اَوْحَى إِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ پھر تو وہ بہت ہی حیرت زدہ سے ہو گئے۔( یکم جون ۱۹۰۹ء) میں جب کشمیر میں تھا تو وہاں ایک شخص آیا۔اس کا تعلق خبیث ارواح سے تھا۔مہاراج نے ایک بنگالی ڈاکٹر کو جو مہاراج کے ہاں نو کر تھا بھیجا۔اس نے کچھ مٹھائی اور پیسے وغیرہ اس کے سامنے رکھے۔اس شخص نے کہا کہ اس کے دل میں یہ خیال ہے۔اور رخصت چاہتا ہے۔