مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 247 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 247

۲۴۷ تو تم سے گیا۔چنانچہ جاتے ہی پولیس کا کام سپرد ہوا۔اور قصہ مختصر پھر اس کو قرآن شریف پڑھنا نصیب نہ ہوا۔اب چند روز ہوئے اس کا خط میرے پاس آیا تھا۔وہ لکھتا ہے کہ مجھ کو آج تک بھی قرآن شریف پڑھنا نصیب نہ ہوا۔مگرہاں میرا ارادہ ہے کہ اپنے لڑکے کو قرآن شریف پڑھاؤں۔(۱۰) مئی ۱۹۰۹ ء بعد نماظهر) ایک مرتبہ مہاراجہ کشمیر نے مجھ سے کہا کہ کیوں مولوی جی تم ہم کو تو کہتے ہو کہ تم سٹور کھاتے ہو اس لئے بیجا حملہ کر بیٹھتے ہو۔بھلا یہ تو بتاؤ کہ انگریز بھی تو سٹور کھاتے ہیں وہ کیوں اس طرح ناعاقبت اندیشی سے حملہ نہیں کرتے ؟ میں نے کہا کہ وہ ساتھ ہی گائے کا گوشت بھی کھاتے رہتے ہیں۔اس سے اصلاح ہو جاتی ہے۔سن کر خاموش ہی ہو گئے۔اور پھر دو برس تک مجھ سے کوئی مذہبی مباحثہ نہیں کیا۔(۶/ اکتوبر ۱۹۱۲ء بعد عصر) میں مہاراجہ کشمیر کے یہاں نوکر ہوا تو میں نے بعض احباب کے مشورہ سے درخواست دی کہ میری تنخواہ ماہ بماہ مجھے کو مل جایا کرے۔انہیں احباب کے مشورے سے میں اس وقت دربار سے غیر حاضر تھا۔جبکہ میری درخواست پیش ہوئی۔مہاراج بہت ناراض ہوئے کہ ہمارا اعتبار نہیں کرتے اور تنخواہ ماہ بماہ لیتے ہیں۔تمام حاضرین دربار نے یک زبان ہو کر میری تائید کی اور کہا کہ ان کا خرچ بہت ہے اور بدوں اس کے گذر مشکل ہے۔خیر میری درخواست پر تو میرے حسب منشاء حکم لکھا گیا۔لیکن جب میں دربار میں گیا تو مجھ کو سنانے کے لئے مہاراج نے کہا کہ بعض لوگ اپنی تنخواہ ہم سے پہلے ٹھراتے اور ماہ بماہ مانگتے ہیں۔لیکن ہمارے وزیر اعظم دس برس سے ہمارے یہاں نوکر ہیں اب تک تنخواہ کا مانگناتو در کنار تنخواہ مقرر بھی نہیں ہوئی۔میں نے کہا کہ پھر وہ کھاتے کہاں سے ہیں ؟ بعد میں مجھ سے ایک شخص