مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 222 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 222

میں فوت ہوئے۔PPP (۳۰) مئی ۱۹۰۹ء) میرے پاس ایک شخص آیا کہ میری بیوی کو آتشک ہو گئی ہے اور وہ روتا تھا۔میں جانتا تھا کہ وہ عورت نیک ہے یعنی حرامکار نہیں ہے۔میں نے اس عورت کو بلا کر اس کے زخم دیکھنا چاہے تو اس نے اپنا ہاتھ دکھایا۔میں نے کہا کہ یہ ہرگز آتشک کا زخم نہیں۔یہ آگ سے جلا ہوا ہے۔غرض کہ اس نے بڑی مشکل سے مجھے بتایا کہ یہ خاوند مجھ کو پسند نہیں ہے۔اصل بات کچھ تھی ظاہر کچھ کرتی تھی۔(۱۲) فروری ۱۹۱۰ء) میرے بعض دوستوں نے مجھ کو ملامت کی کہ تو اس قدر حسن ظن سے کیوں کام لیتا ہے؟ میں نے کہا کہ یہ تو میرے خدا تعالیٰ نے بلاواسطہ مجھے کو بتایا ہے۔میں کیوں بد ظنی سے نہ بچوں۔بدظنی سے بچنے کا طریق سورہ نور کے پہلے رکوع میں لکھا ہے۔(۴ اکتوبر ۲۶۱۹۱۲ میرے ایک دوست شہزادے تھے۔اور احمد سعید ایک دوسرے دوست تھے۔احمد سعید اپنی معرفت لوگوں کے کپڑے لاتے اور شہزادے صاحب وہ کپڑے سیتے اور اسی میں اپنا گزارہ کرتے۔ایک روز احمد سعید صاحب نے مجھ سے کہا کہ آپ کو اگر کپڑے سلوانے ہوں تو مجھ کو دے دیں۔شہزادے صاحب سیتے ہیں میں سلوادوں گا لیکن خود نہ دیں ورنہ آپ سے وہ سلائی نہ لیں گے۔میں نے ایک روز کہا کہ شہزادے صاحب! ابھی تک اس حالت عسرت میں آپ کو بعض امیرانہ شوق موجود ہیں۔کہا کہ میاں بگڑی ہوئی عادتیں آسانی سے نہیں چھوٹتیں۔