مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 210 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 210

(۲) نومبر ۱۹۱۲ء) میں نے عنفوان شباب میں لوگوں کو بہت نصیحت کی ہے۔ایک شخص کو میں نے بہت نصیحت کی تو وہ چیخ مار کر رونے لگا۔میں نے کہا کیوں روتے ہو ؟ کہا کہ تمہاری باتیں زبان کو تو خاموش کئے دیتی ہیں لیکن دل نہیں مانتا۔اسی طرح ایک شخص کو میں نماز کے لئے بار بار کہتا تھا۔میں نے ایک اور شخص سے کہا کہ تم اس کو نماز کے لئے نصیحت کرو۔جب اس نے نماز کے لئے کہا تو اس بے نماز نے اس کو جواب دیا کہ نماز تو ہم پڑھتے مگر نورالدین ہم کو نماز نہیں پڑھنے دیتا کیونکہ ہم نے عہد کیا ہے کہ جو نور الدین کے گاوہ نہ کریں گے۔اس شخص نے مجھے سے آکر کہا کہ تم اس کو یہ کہو کہ نماز نہ پڑھ تو پھر وہ پڑھنے لگے گا۔میں نے کہا کہ ممکن ہے وہ یہ مکہدے کہ ساری عمر تو ہم نے تمہاری بات مانی نہیں لاؤ یہ ایک بات تو مان لیں۔اس لئے میں تو ڈر ہی گیا۔اور چپ ہو رہا۔(۱۲) جنوری ۱۹۱۰ء تحمل مغرب در مسجد مبارک) میں نے حضرت خواجہ شاہ سلیمان صاحب تونسوی اور حضرت شاہ ولی اللہ صاحب اور حضرت شاہ غلام علی صاحب اور صحابہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو ایک عالم میں خود دیکھا ہے۔حضرت شاہ سلیمان صاحب بائیس برس کے تھے جب خلیفہ ہوئے اور پورے ۷۸ برس خلافت کی۔سو برس کی عمر پائی۔شاہ سلیمان صاحب قوم سے پٹھان روہیلے تھے۔حضرت شاہ ولی اللہ صاحب فقیہ ، محدث اور حکیم صوفی ہیں۔شاہ غلام علی صاحب بٹالہ کے باشندہ سید تھے۔(۲۶ / جنوری ۱۹۱۰ ء بعد نماز فجر) میں نے دنیا کے جملہ مذاہب کی کتابیں پڑھیں اور سنی ہیں۔ژند - پاژند- سفرنگ- دساتیر- بائیبل - وید - گیتا و غیرہ کتابوں پر بہت ہی بہت غور کیا ہے۔دنیا کی تمام کتابوں کی اچھی باتوں