مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 209 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 209

۲۰۹ ہر وقت خدا تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہو۔پس نزول رحمت جس قدر وہاں ہو تا ہے دوسری جگہ ہو ہی و تا و پس نزول رحمت نہیں سکتا۔(۱۶) فروری ۱۹۱۲ء) میرے استاد نے مجھ سے کہا کہ تم قانون ( قانون شیخ) کس طرح پڑھو گے ؟ میں نے کہا کہ میں تو قرآن شریف پڑھ سکتا ہوں۔قانون کی کیا حقیقت ہے؟ (۱۲۷ مئی ۱۹۰۹ء) یہ بھی ایک شرک ہے کہ آدمی ڈپلومے یا سند پر بھروسہ کرے۔ایک مرتبہ ایک شخص نے جو افسر مدارس تھا اور میں بھی پنڈ دادنخان میں مدرس تھا۔مجھ سے کسی بات پر کہا کہ آپ کو ڈپلومے کا گھمنڈ ہے۔میں نے اپنے آدمی سے کہا۔ڈپلومہ لاؤ جس کو یہ خدا سمجھے ہوئے ہے وہ ہمارے پاس بھی ایک ہے۔منگا کر اسی وقت اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔وہ آدمی بڑا حیران ہوا۔مجھ سے کہا آپ کو کوئی جوش ہے ؟ میں نے کہا نہیں۔کہا کوئی رنج ہے ؟ میں نے کہا نہیں۔آپ نے اس کو باعث غرور و تکبر، موجب روزی سمجھا ہے۔میں نے اس کو پارہ کر کے دکھایا ہے کہ میرا ان چیزوں پر بحمد اللہ بھروسہ نہیں۔(۲) نومبر ۱۹۱۰ء) میں نے بائیبل دساتیر- دید وغیرہ تمام مذاہب کی کتابیں پڑھی بھی ہیں۔سنی بھی ہیں۔مجھ کو سب سے زیادہ قرآن کریم ہی کی عظمت نظر آئی اور کوئی چیز بھی گمراہی کا موجب نہیں ہو سکی۔فالحمد لله رب العالمين۔