مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 208
کہ یہ بھی نہ معلوم ہو کہ کوئی ورق علیحدہ کیا گیا ہے لیکن جب وہ پڑھنے بیٹھی تو کہنے لگی کہ وہ آتش لباس و الاورق کہاں گیا۔پھر اس نے ورق پھاڑنے والے کو بہت برابھلا کہا۔غرض میں نے آب آتش لباس ورق کے سوا کر یما اس کو پڑھائی۔اس کے بعد نہ گلستاں اس قابل تھی۔نہ بوستاں کہ اس کو پڑھاتا۔انوار سہیلی ان سے بھی بد تر نکلی۔جب کوئی کتاب نہ ملی تو مجبور امیں نے کہا کہ تم شاہ ولی اللہ صاحب کا ترجمہ ہی پڑھو۔عهد جوانی - طلب (۱۵ مارچ ۱۹۱۰ء) میں ایک مرتبہ آگرہ سے بھوپال پیادہ پاگیا اور معلوم بھی نہ ہوا۔اب تو نواب صاحب کو ٹھی تک جانے سے کئی دن تک تکان کا اثر باقی رہتا ہے۔(۲۹ اکتوبر ۱۹۱۰ء) میں جوانی کے عالم میں جبکہ جہلم کا دریا خوب چڑھا ہوا تھا تیر کر پار چلا جاتا تھا۔ار مارچ ۱۹۱۲ ء بعد نماز ظهر قوی مختلف ہوتے ہیں۔میں زمانہ طالب علمی میں کئی کئی وقت تک کھانا نہیں کھاتا تھا اور کوئی ضعف و نقاہت قطعاً محسوس نہیں ہو تا تھا۔(۱ار مئی ۱۹۰۹ ء بعد نماز ظهر) میں نے حج میں دو مرتبہ سات سات دفعہ طواف کر کے دو دو رکعتیں پڑھیں۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے ورنہ یہ موقع کسی کو بڑی ہی مشکل سے مل سکتا ہے بلکہ نہیں ملتا۔مطاف میں دن رات ہر وقت ہی خدا تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے۔دنیا میں کوئی جگہ نہیں جہاں اس کثرت سے