مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 206 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 206

(۱۹ار اگست ۱۹۰۸ء) لدھیانہ میں میری اس موجودہ بیوی کے کان میں درد ہوا۔ایک عیسائی ڈاکٹرنی کو بلایا۔اس نے علاج کیا۔آرام ہو گیا۔چونکہ اس نے بہت خدمت کی تھی لہذاوہ بڑی دوست بن گئی اور روزانہ آنا جانا شروع کیا۔ایک روز اس نے کہا کہ بیوی تمہار ا مذ ہب اسلام تو بہت اچھا ہے لیکن یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ دو بیویاں کیوں کر لیتے ہیں۔چونکہ میری بڑی بیوی زندہ تھی لہذا ڈاکٹرنی کی بات کا میری اس چھوٹی بیوی کے دل پر بڑا اثر ہوا۔پھر ایک دن وہ اپنی کو بھی میں بطور سیر لے گئی اور پردہ کے متعلق اعتراض کیا۔میری بیوی اس کا بھی جواب نہ دے سکی۔اس کے بعد میں لدھیانہ گیا۔بیوی کو ہمراہ لے کر مالیر کوٹلہ پہنچا۔وہاں ایک عیسائی عورت کے نام جو مالیر کوٹلہ کے ولی عہد کی اتالیق تھی ، اسی لدھیانہ والی ڈاکٹرنی کی چٹھی آئی۔جس میں میری بیوی کے مالیر کوٹلہ آنے اور اس سے ملاقات کرنے کی بابت اشارہ تھا۔مجھے کو اس کا حال معلوم ہو گیا۔میں نے اپنی بیوی سے دریافت کیا کہ تمہاری کسی عیسائی عورت سے لدھیانہ میں ملاقات ہوئی تھی؟ اس نے کہا کہ ہاں ایک مس ڈاکٹرنی سے کان کے درد کا علاج کرایا تھا اور تمام قصہ سنایا۔میں نے ہر چند نصیحت کی مگر تعدد ازدواج کے متعلق میری بیوی کی تشفی نہ ہوئی۔میں نے دعائیں کیں جس کا یہ اثر ظاہر ہوا کہ ایک ناول کسی نے میرے پاس اسی عرصہ میں بھیجا جس کا نام شاید فلورا فلورنڈا تھا۔وہ میری بیوی نے دیکھا اور اول سے آخر تک بغور پڑھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ میری بات کو بھی مان گئی اور اسی روز سے اس کو عیسائی عورتوں سے اب نہایت سخت نفرت ہے۔وہ ناول عبد الحلیم شرر کا تھا۔بار مئی ۱۹۱۲ء) میں نے جب سے شادیاں کی ہیں آج تک اپنی کسی بیوی کا کوئی صندوق کبھی ایک مرتبہ بھی کھول کر نہیں دیکھا۔