مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 205 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 205

۲۰۵ (۸) جون ۱۹۰۹ ء بعد نماز عصر قبل از درس در مسجد مبارک) میری بیوی کو جب میرے لڑکے محمود احمد کا حمل ہوا تو میں نے اس سے کہا کہ تم لکھا بہت کرد - مدعا اس سے یہ تھا کہ تجربہ کروں کہ یہ بچہ لکھنے کا شوقین ہو گایا نہیں ؟ چنانچہ جس وقت محمود احمد کے انتقال کا زمانہ قریب تھا۔میں نے ایک قلم لیا اور ایک روپیہ لیا۔دونوں اس کے سامنے کئے۔اس نے ہر مرتبہ قلم ہی کی طرف ہاتھ بڑھایا۔(۱۴ جون ۱۹۰۹ء) میری نئی نئی شادی ہوئی تھی۔میری بیوی کی عمر چھوٹی تھی۔میرے ایک دوست تھے۔انہوں نے کہا کہ ہماری بیوی تمہاری بیوی سے ملاقات کرنا چاہتی ہے۔میں نے کہا کہ شوق سے وہ آئیں۔چنانچہ وہ آئی۔میری بیوی کو دیکھتے ہی ایک بڑا ٹھنڈ ا سانس بھرا اور کہا کہ ہائے تیری تو قسمت پھوٹ گئی۔تو تو ابھی بچی ہے اور تیرے ماں باپ اور بھائیوں نے مولوی صاحب کے ساتھ تیری شادی کر دی جو تیرے باپ کے ہم عمر ہیں۔میں نے تو اپنی بیٹی کی شادی ایک نہایت خوبصورت اور جوان شخص کے ساتھ کی ہے۔میری بیوی نے مجھ سے کہا کہ یہ کون عورت ہے؟ میں نے کہا کہ ہمارے ایک دوست کی بیوی ہے۔میری بیوی نے کہا کہ یہ مجھ سے ایسا ایسا کہتی ہے اور اس کی سب باتیں اس کے سامنے ہی نقل کر دیں۔وہ سنتے ہی فور آ وہاں سے چل دی۔مجھ کو کچھ کہنے کی بھی نوبت نہ پہنچی۔اس کی لڑکی کی جس شخص کے ساتھ شادی ہوئی تھی یعنی اس کا داماد تپ دق سے جلد مرگیا۔پھر دو سرے کے ساتھ شادی کی۔چند روز کے بعد قریباً ایک ہزار روپیہ دے کر اس سے طلاق حاصل کی۔اب بھی وہ لڑکی موجود ہے۔قرآن کریم میں اسی واسطے علی العموم عورتوں کو گھروں میں آنے سے روکا گیا ہے۔دیکھو سورہ نور۔