مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 204
For کی بات ہے۔وہ پڑھ کر حیران رہ گیا کہ دیکھو انہوں نے اپنی عزت کا خیال نہیں کیا۔میں نے کہا اس شخص کو جس کی یہ بیوی تھی۔جب خدا تعالٰی نے مار دیا تو اب خدا تعالیٰ کی مرضی ہی یوں تھی۔(۱۵) اکتوبر ۱۹۰۸ء) حکیم فضل الدین میرے نہایت بچپنے کے دوست ہیں۔جبکہ ہمارے شہر میں کوہاٹ کے علاقہ سے محمد جی نامی ایک مولوی آکر وعظ کیا کرتے اور ہم دنوں بڑے شوق سے ان کا وعظ سننے جایا کرتے۔متعلق به اہل و عیال (۲۲) مئی ۱۹۰۹ء) میرا نکاح جب ہونے لگا تو میرے استاد جو نکاح پڑھانے والے تھے۔میں نے ان سے کہا کہ مہر مجھ کو تو ادا کرنا پڑے گا آپ کو تو ادا کرنا پڑے گا نہیں۔عورتوں میں شور مچ گیا کہ لڑکا بول پڑا۔ہمارے استاد صاحب بھی ناراض ہو گئے۔عورتیں بھی ناراض ہو گئیں لیکن میں نے تو پانچ سو روپے سے زیادہ منظور نہیں کیا۔۱۶ مئی ۱۹۰۹ ء در مسجد مبارک) میری تین بیویاں ہوئیں جن میں دو آپس میں لڑتی بھی تھیں۔میں نے اس بات کے معلوم کرنے کی کہ لڑائی کی بنیاد کیا ہے ؟ بہت کوشش کی۔لیکن بعض بعض باتوں کا مجھے کو آج تک بھی پتہ نہیں چلا۔جب اپنے گھر کے متعلق اور اپنے متعلق واقعہ کی یہ حالت ہے تو دوسرے واقعات اور تاریخ پر کیا اعتماد ہو سکتا ہے۔