مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 199
۱۹۹ (۲۱) ستمبر ۱۹۰۸ء) عبد الرحمن کے باپ ہمارے ایک بھائی تھے۔وہ جب ڈیرہ غازی خاں کی طرف گئے تو وہاں سنا کہ ایک نواب صاحب رمضان میں روزہ نہیں رکھتے اور کھانا بھی سب کے سامنے باہر بیٹھ کر کھاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لو ہم ابھی اس حرکت سے اس کو روکے دیتے ہیں۔چنانچہ یہ گئے۔اس کو دیکھا کہ اس نے پانی پی کر الحمد للہ کہا۔انہوں نے کہا استغفر الله آپ تو مسلمان ہیں۔لوگ خواہ مخواہ بازار میں چرچا کر رہے ہیں کہ نواب صاحب کرسشان ہو گئے کیونکہ رمضان شریف کی حرمت نہیں فرماتے۔کھلے طور پر باہر مردانہ میں کھانا کھاتے ہیں۔اس نے اپنے ملازموں سے کہا کہ تم نے مجھ کو خبر بھی نہیں کی کہ رمضان آگئے واقعی رمضان کا ضرور ادب کرنا چاہئے۔پھر اس نے رمضان میں باہر کھانا نہیں کھایا۔(۸) نومبر ۱۹۰۹ء) میری ایک بہن تھیں۔ان کا ایک لڑکا تھا وہ پیچش کے مرض میں مبتلا ہوا اور مرگیا۔اس کے چند روز بعد میں گیا۔میرے ہاتھ سے انہوں نے کسی پیچش کے مریض کو اچھا ، دتے ہوئے دیکھا۔مجھ سے فرمانے لگیں کہ بھائی تم اگر آجاتے تو میرا لڑکا بیچ ہی جاتا۔میں نے ان سے کہا کہ تمہارے ایک لڑکا ہو گا اور میرے سامنے پیچش کے مرض میں مبتلا ہو کر مرے گا۔چنانچہ وہ حاملہ ہو ئیں اور ایک بڑا خوبصورت لڑکا پیدا ہوا۔پھر جب وہ پیچش کے مرض میں مبتلا ہوا۔ان کو میری بات یاد تھی۔مجھ سے کہنے لگیں کہ اچھا دعا ہی کرو۔میں نے کہا کہ خد اتعالیٰ آپ کو اس کے عوض میں ایک اور لڑکا دے گا لیکن اس کو تو اب جانے ہی دو۔چنانچہ وہ لڑکا فوت ہو گیا اور اس کے بعد ایک اور لڑکا پیدا ہوا جو زندہ رہا اهداب تک زندہ بر سر روزگار ہے۔یہ الہی غیرت تھی۔