مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 181
ہوں گے۔اگر مباحثہ میں آپ ہار گئے تو ہم کو شیعہ ہونا پڑے گا۔اور پہلے سے اس کا ذکر آپ سے اس لئے نہیں کیا کہ تیاری کر کے جاتے تو مزہ نہ آتا۔میں نے شیخ صاحب کو بہت ملامت کی کہ ایسی شرطیں نہیں کیا کرتے مگر انہوں نے میری باتیں ہنسی ہی میں اڑا دیں جب وہاں پہنچے تو شیخ فتح محمد صاحب نے جو بڑے ہی بے تکلف بھی تھے کہا کہ ارے او شیعو الاؤ کہاں ہیں وہ تمہارے بحث کرنے والے مولوی۔چنانچہ کتاب عبقات الانوار میرے سامنے پیش کی گئی۔ابھی تک میں نے مجتہد صاحب کو بھی نہیں پہچانا تھا۔کیونکہ اس وقت تک میرے سامنے نہیں ہوئے تھے۔میں نے اپنے مولا کا بڑا ہی شکر ادا کیا کہ یہ وہی کتاب ہے جو میں دیکھ چکا ہوں۔میں نے اس کتاب کے جلد جلد ورق الٹنے شروع کئے۔چند منٹ میں اس کے سب ورقوں کو الٹ گیا۔پھر میں نے وہ کتاب میاں الہی بخش کے سامنے رکھ دی اور عرض کیا کہ منشا کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ آپ اس کتاب کو بہت غور سے پڑھیں۔میں اپنے مولا کی غریب پروری کی کوئی حد نہیں سمجھتا۔اس وقت مجھ کو بڑی خوشی ہوئی۔میں نے کہا کہ میں نے یہ کتاب پڑھ لی۔اگر آپ کہیں تو میں اس کا خلاصہ سنادوں اور پھر اس کا جواب نہایت مختصر طور پر عرض کردوں۔وہاں بہت سے شیعہ مولوی موجود تھے۔سب نے کہا کہ آپ خلاصہ سنا ئیں۔میں نے اللہ تعالیٰ کے محض فضل سے خلاصہ سنایا جس کے سننے کے بعد ان شیعوں نے علیحدہ جا کر سرگوشی کی کہ اس شخص سے مباحثہ کرنا ہمارا کام نہیں۔الہی بخش نے اپنے نوکروں کو حکم دیا کہ کھانا لاؤ۔بس پھر کیا تھا۔ہمارے شیخ فتح محمد صاحب نے خوب اچھل اچھل کر کہا کہ ہم کھانا نہیں کھاتے۔مباحثہ ہو جائے۔اور بلاؤ کہاں ہیں تمہارے مباحثہ کرنے والے۔میرے اس خلاصہ کو بنانے سے یہ فائدہ ہوا کہ مباحثہ کے لئے کوئی سامنے نہ آیا اور اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے وہ مباحثہ ٹال دیا۔میں نے ریاست کے معاملات میں بہت ہی غور کیا ہے۔وہاں چار نقص بڑے ہیں۔اول یہ کہ رئیس کے خدمت گار جس قد ر ا جہل ہوں اسی قدر ان کا زیادہ رسوخ ہوتا ہے اور وہ بہت تھوڑی طمع پر ایک شریف کی ہتک کرنے میں دریغ نہیں کرتے۔میں نے خود ایک دفعہ