مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 160 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 160

14۔ہے۔میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ ! آپ چل پڑے اور میں پیچھے پیچھے تھا۔بانہال کے رستے سے ہم کشمیر گئے۔یہ بھیرہ چھوڑنے اور کشمیر کی ملازمت کی تحریک ہے اس لئے میں بھیرہ کا اور کوئی حال نہیں لکھواتا۔ریاست کشمیر و جموں جموں ریاست میں پہنچ کر سب سے عجیب نظارہ یہ دیکھنے میں آیا کہ میں نے ایک مختصر بالا خانہ ایسے موقع پر کرایہ پر لیا جہاں سے مجھ کو دربار آنے جانے میں سہولت ہو۔وہ مکان اصل میں سرکاری اور اس کا مہتم ایک بہت ضعیف العمر آدمی تھا۔لوگوں نے مجھ سے کہا کہ یہ شخص بد عہد ہے۔آپ سال کے لئے اس سے اسٹامپ لکھالیں۔چنانچہ میں نے اس سے اسٹامپ بھی لکھا لیا۔دوسرے تیسرے دن وہ میرے پاس آیا اور کہا کہ جو کرایہ آپ دیتے ہیں اس سے دو گنا کرا یہ دوسرا آدمی دیتا ہے۔میں نے کہا کہ تم تو ہم کو تحریر دے چکے ہو۔اس نے کہا کہ میں اپنی تحریر کا کوئی اعتبار نہیں کرتا۔میں نے کہا اچھا ہم ہی دو گنا کرایہ دیں گے۔تھوڑی دیر کے بعد آیا کہ وہ آدمی چوگنا کرایہ دیتا ہے۔میں نے کہا بہت اچھا ہم چوگنا کرایہ ہی دے دیں گے۔تھوڑی دیر کے بعد آیا کہ وہ بارہ گنا کرایہ دیتا ہے۔میں نے اس کی پیرانہ سالی شہر کے سرکاری مکانوں کی افسری اور اس بد عہدی کو خیال کیا تو مجھے اس شہر سے نفرت ہو گئی۔میں نے اپنے آدمی سے کہا کہ ہم ایسے شہر میں رہنا پسند نہیں کرتے۔ابھی سب اسباب باند ھو اور یہاں سے چلو۔چنانچہ میرے آدمیوں نے تمام اسباب باندھ کر نیچے اتار دیا اور میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ اس شہر کو ابھی چھوڑ دینا چاہیے۔جہاں ایسا ضعیف العمر اور تمام سرکاری مکانات کا افسر ایسا بد عہد ہے۔تمام اسباب نیچے اتر گیا تھا اور میں ابھی اوپر ہی تھا کہ اس طرف سے ایک شخص فتح نام رئیس گذرے اور کھڑے ہو کر دریافت کرنے لگے کہ یہ کس کا اسباب ہے۔اتنے میں میں بھی وہاں آگیا۔مجھ سے کہنے لگے کہ آپ تو ابھی آئے