مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 8 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 8

فرماں برداری کی ہے اور ایک ایک ان میں سے مجھ پر فدا ہے کہ مجھے کبھی و ہم بھی نہیں آسکتا کہ میرے متعلق انہیں کوئی وہم آتا ہے۔اللہ تعالٰی نے اپنے ہاتھ سے جس کو حق دار سمجھا خلیفہ بنا دیا جو اس کی مخالفت کرتا ہو وہ جھوٹا اور فاسق ہے۔فرشتے بن کر اطاعت و فرماں برداری اختیار کرو۔ابلیس نہ بنو تم خلافت کا نام نہ لو۔نہ تم کو کسی نے خلیفہ بنانا ہے اور نہ میری زندگی میں کوئی اور بن سکتا ہے۔میں جب مرجاؤں گا تو پھر وہی کھڑا ہو گا جس کو خدا چاہے گا اور خدا اس کو آپ کھڑا کرے گا۔تم نے میرے ہاتھ پر اقرار کئے ہیں۔تم خلافت کا نام نہ لو - مجھے خدا نے خلیفہ بنا دیا ہے اور اب نہ تمہارے کہنے سے معزول ہو سکتا ہوں اور نہ کسی میں طاقت ہے کہ وہ معزول کرے "۔پھر آپ نے اپنے جانشین کے متعلق ان الفاظ میں وصیت کی۔( بدر ۴ جولائی ۱۹۱۲ء) ”میرا جانشین متقی ہو۔ہر دل عزیز عالم باعمل ہو۔حضرت صاحب کے پرانے اور نئے احباب سے سلوک، چشم پوشی اور درگذر کو کام میں لاوے۔۔میں سب کا خیر خواہ تھا وہ سب کا خیر خواہ رہے۔قرآن و حدیث کا درس جاری رہے"۔یہ وصیت آپ نے مولوی محمد علی صاحب سے تین بار حاضرین مجلس کے سامنے پڑھوائی اور تصدیق کروائی مگر افسوس کہ انہوں نے اس وصیت کے برخلاف آپ کے جانشین کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اصل خلیفہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی انجمن ہے اور تفرقہ کی بنیاد رکھ دی۔بهر حال اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ قدرت ثانیہ کو ظاہر فرمایا اور خلافت کی عظمت اور اس کی اہمیت اور اس کا حقیقی مقام آپ کے ذریعہ ظاہر ہوا۔بے شک آپ ایک عظیم