مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 127
اہزادہ میری خدمت اس طرح کرتا تھا جیسے ایک وفادار غلام اپنے آقا کی۔کبھی تو میں تھوڑا سا پانی ساتھ بھی رکھ لیتا تھا اور کبھی بدد سے کہتا کہ مجھ کو پانی کی ضرورت ہے۔وہ کہیں نہ کہیں سے پانی لاکر مجھ کو دیتا تھا۔ایک دن رات کو میں نے پانی کی فرمائش کی تو اس نے کہا کہ یہاں سے دو تین میل پر ٹھنڈے پانی کا چشمہ آتا ہے۔ذرا ٹھہریئے۔لیکن عجائبات قدرت۔مجھ کو پیاس بہت تھی۔میں نے کہا۔اچھا ٹھنڈا پانی نہ سہی ویسا ہی سہی۔رات کے وقت میں نے ان لوگوں کے چال چلن میں دیکھا ہے کہ اپنے اونٹ سے علیحدہ ہو کر دوسرے اونٹ والے کے پاس قطعا نہیں جاتے۔اس نے مجھ سے گلاس مانگا۔میرے سامنے ایک ہندوستانی تھے۔وہ آگے بڑھا اور انکے پاس جا کر نہایت ادب سے کہا کہ ایک معزز شخص کے واسطے ایک گلاس پانی کی ضرورت ہے۔انہوں نے بجائے اس کے کہ پانی دیتے، حرامی حرامی کہہ کر شور مچا دیا۔وہ بد و بڑی چالاکی سے اپنے اونٹ کے پاس پہنچ گیا اور مجھ سے کہا کہ اس وقت پانی کا کوئی موقع نہیں ملا۔آپ تھوڑا سا انتظار کریں۔دو تین میل چل کر جہاں پانی تھا، وہاں سے بڑا ٹھنڈا پانی میرے واسطے لایا۔میں نے پانی پیا اور پھر سو گیا۔دن کے وقت جہاں ڈیرا ہوا تو میں نے دیکھا کہ ایک ہندوستانی بے چارے بڑے مضطر ہیں اور شور مچارہے ہیں۔میں نے دریافت کیا کہ کیا ہوا؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے مشکیزہ میں رات کوئی بد معاش سوراخ کر گیا ہے۔اب ہم کو مشکل یہ ہے کہ مکہ تک پانی نہیں ملے گا۔میں تاڑ گیا کہ یہ اس ہمارے بدو کا کام ہے۔میں نے علیحدگی میں اس سے کہا کہ رات اس ہندوستانی کے مشکیزہ میں کسی نے سوراخ کر دیا ہے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نے یہ کام کیا ہو۔وہ کہنے لگا کہ مولوی صاحب !دیکھو ہم نے آپ کے لئے اس سے پانی مانگا اور اس نے ایک گلاس پانی نہ دیا۔پھر بھلا غصہ آتا یا نہ آتا۔میں نے اس کو بہت ملامت کی۔میری دانست میں ان سے حجاج کو کسی قدر ملاطفت اور علیحدگی کا سلوک بہت مناسب ہوتا ہے۔میں نے آنے اور جانے دونوں موقعوں پر نہ مشکیزہ رکھا نہ چھا گل۔مجھ کو پینے کے لئے یا وضو کے لئے پانی کی کوئی دقت نہیں ہوئی۔زبان کی واقفیت پر بھی بہت کچھ مدار ہے۔میں کسی دن کوئی شعر سنا دیتا تھا تو سن کر بد و ناچنے لگتے تھے۔۔