مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 119 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 119

119 مدینہ طیبہ مدینہ طیبہ کے جانے میں چونکہ میں نے حضرت شاہ عبد الغنی صاحب سے ہی پہلے مشورہ لیا تھا۔اس لئے میں انہیں کی خدمت میں سب سے پہلے حاضر ہوا۔انہوں نے ایک علیحدہ حجرہ رہنے کے واسطے مجھے عطا کیا۔میں وہاں صرف رہتا تھا۔سبق کسی سے نہیں پڑھا کرتا تھا۔نہ شاہ صاحب سے۔پھر میرے دل میں یہ بات آئی کہ میں انکے ہاتھ پر بیعت کرلوں۔مکان پر تو میرا ایسا خیال ہو تا تھا۔لیکن جب ان کی خدمت میں حاضر ہو تا تھا تو خیال کرتا تھا کہ کیا فائدہ۔ان کے پاس جا کر عجیب عجیب خیال اٹھتے تھے۔کبھی یہ سوچتا تھا کہ حلال و حرام اور اوامرو نوا ہی قرآن کریم میں موجود ہی ہیں۔ان لوگوں سے کیا سیکھنا۔اگر حسن اعتقاد سے نفع ہے تو مجھ کو ان سے ویسے ہی بہت عقیدت ہے۔پھر اپنی جگہ جا کر یہ بھی خیال کرتا تھا کہ ہزار ہالوگ جو بیعت اختیار کرتے ہیں اگر اس میں کوئی نفع نہیں تو اس قدر مخلوق کیوں مبتلا ہے۔غرض کہ میں اسی سوچ و بچار میں بہت دنوں پڑا رہا۔فرصت کے وقت ایک کتب خانہ جو مسجد نبوی کے جنوب و مشرق میں تھا وہاں جا کر اکثر بیٹھتا اور کتابیں دیکھا کرتا تھا۔بہت دنوں کے بعد آخر میں نے پختہ ارادہ کیا کہ کم سے کم بیعت کر کے تو دیکھیں اس میں فائدہ کیا ہے ؟ اگر کچھ فائدہ نہ ہوا تو پھر چھوڑنے کا اختیار ہے۔لیکن جب میں خدمت میں حاضر ہوا اور خیال آیا کہ ایک شریف آدمی ایک معاہدہ کر کے چھوڑ دے تو یہ بھی ایک حماقت ہی ہے۔پہلے ہی سے اس بات کو سوچ لینا بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ پھر چھوڑ دے۔آخر ایک دن میں خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں بیعت کرنی چاہتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ استخارہ کرو۔میں نے عرض کیا کہ میں نے تو بہت کچھ استخارہ اور فکر کیا ہے۔لیکن شاہ صاحب نے جو نہی اپنا ہاتھ بیعت لینے کے لئے بڑھایا۔میرے دل میں بڑی مضبوطی سے یہ بات آئی کہ معاہدہ قبل از تحقیقات ! یہ کیا بات ہے؟ اس لئے باوجود یکہ حضرت شاہ صاحب نے ہاتھ بڑھایا تھا۔میں نے اپنے دونوں ہاتھ کھینچ لئے۔مربع بیٹھ گیا اور عرض کیا۔بیعت سے کیا فائدہ؟ آپ نے