مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 110 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 110

شراکت میں خرچ اٹھاتے ہیں۔میں نے کہا۔میں پڑھا لکھا آدمی ہوں، مجھ سے لکھوالیا کرد۔ان کو میری یہ بات بڑی ہی ناگوار گزری اور کہا کہ آپ بھائیوں میں تفرقہ ڈلوانا چاہتے ہیں۔میں سمجھتا تھا کہ یہ مزدوری پیشہ لوگ ہیں اور یہاں خرچ بہت ہو تا ہے۔انجام انکی اس بجھتی کا اچھا نہ ہو گا۔وہ دو تو مجھ سے یوں ناراض ہو گئے ایک ضعیف العمر تھے وہ تو ویسے ہی قابل ادب تھے۔چوتھے صاحب جن سے بہت آرام ملتا تھا۔انہوں نے مجھ سے کہا کہ اپنی کتابیں میرے صندوق میں رکھ دو کیونکہ اس میں جگہ خالی ہے۔میں سفروں کا تجربہ کار نہ تھا۔میں نے کتابیں رکھ دیں۔جدہ سے ہم سوار ہوئے۔پڑاؤ پر جہاں ٹھرے وہاں یہ حادثہ ہوا کہ انکے صندوق کی کنجی گم ہو گئی۔وہ طبیعت کے بڑے تیز تھے مجھ سے کہنے لگے کہ تمہاری کتابوں کے سبب سے چونکہ صندوق بھاری تھا اس لئے اس کی کنجی کسی نے چرائی ہے۔تم ابھی کنجی پیدا کرو۔میں نے کہا کہ تمہاری کنجی میں نے چرائی نہیں۔اور میری کتابیں اپنے صندوق میں تم نے خود ہی باصرار بلا میری درخواست کے رکھی ہیں۔مگروہ کچھ ایسے ضدی آدمی تھے کہ ایک ہی بات پر اڑ گئے اور کہا کہ میری کنجی اسی وقت پیدا کرو۔یہ معاملہ اتنا بڑھ گیا کہ شور برپا ہوا اور ارد گرد کے تمام لوگوں کو اطلاع ہوئی۔ایک ہمارے ساتھ لوہار تھا۔اس نے کہا کہ اس تالے کی اعلیٰ سے اعلیٰ کنجی مکہ معظمہ میں پہنچتے ہی بنادوں گا۔مگر اس وقت یہاں چونکہ کوئی سامان نہیں۔اس لئے مجبور ہوں۔صندوق والے نے کہا کہ میں تو اپنی کنجی مانگتا ہوں غرض کہ ایسے پیچھے پڑے کہ کسی طرح چین نہیں لینے دیتے تھے۔میں نے منت سماجت بھی کی۔اور لوگوں نے بھی انکی خوشامد کی اور سمجھایا مگر وہ اپنی بات سے نہ ملے۔رات کو وہ اور ہم سب سو گئے۔اسی رات ترکوں کے کیمپ پر چوروں نے حملہ کیا۔ترک لوگ سپاہی تھے۔انہوں نے چوروں کا تعاقب کیا۔بھاگتے چوروں کی کنجیاں رہ گئیں۔اور یہ کرشمہ اس دعا کا تھا جو رات کو میں نے جناب الہی میں کی تھی۔صبح کے وقت ترک مع کنجیوں کے اس تجھے کے ہندیوں کے کیمپ میں آئے اور منشا ان کا یہ تھا کہ جن کے صندوقوں میں وہ کنجیاں لگیں۔وہی چور ہیں ان کو پکڑ لیا جائے۔میں نے ایک ترک کے ہاتھ میں کنجیوں کا گچھا دیکھا تو اس