مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 109 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 109

۱۰۹ کر دیں۔انہوں نے فرمایا کہ کل آؤ۔میں جب دوسرے دن گیا تو انہوں نے وہ کتاب ہمیٹی کی چھپی ہوئی مجھے دکھائی اور کہا کہ ہم اس کی قیمت پچاس روپیہ لیں گے۔میں نے فورا پچاس روپیہ کانوٹ نکال کر ان کو دے دیا۔اور وہ کتاب لیکر کھڑا ہو گیا اورباہر جانے لگا۔انہوں نے کہا کیوں اس قدر جلدی کیوں اٹھ کھڑے ہوئے۔میں نے کہا کہ بیع شرا میں ایک مختلف مسئلہ ہے۔حنفیہ تفارق قولی کے قائل ہیں اور محدثین تفارق جسمی کی طرف مائل ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ احتیاطاً دونوں کے موافق بیع صحیح اور قوی ہو جائے۔اس لئے آپ کے مکان سے جانے کا ارادہ کیا ہے۔ایک مرتبہ حضرت عبد اللہ بن عمر نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔چنانچہ میں اس وقت ان کے موافق عمل کرتا ہوں۔میں وہاں سے اٹھ کر گلی میں جاکر پھر جلد واپس آگیا۔تھوڑی دیر بیٹھے رہے اور باتیں کرتے رہے مجھے وہ بڑے ہی مخلص اور عمدہ آدمی معلوم ہوئے۔جب باتوں سے فارغ ہو کر میں اٹھنے لگا تو انہوں نے پچاس روپیہ کانوٹ نکالا اور مجھ سے کہا کہ میں اپنی طرف سے آپ کو اس عمدہ نظارہ پر دیتا ہوں جو عمدہ کتابوں سے آپ کے محبت کرنے کے متعلق میں نے دیکھا۔میں نے کہا کہ گو میں طالب علم آدمی ہوں مگر محتاج نہیں ہوں۔حج مجھ پر فرض ہے۔مگر انہوں نے وہ پچاس روپیہ مجھ کو واپس کر ہی دیئے یا یوں سمجھو کہ اپنے پاس سے دیئے۔بمبئی سے روانگی کے وقت مجھ کو اپنے وطن کے پانچ آدمی حج کو جاتے ہوئے ملے۔جن کے باعث مجھ کو جہاز میں بڑا آرام ملا۔کیونکہ وہ میرے مفت کے خدمت گزار ہوتے تھے۔بندرگاہ حدیدہ میں اس جہاز کو کچھ مدت ٹھہر نا تھا۔میں جو ان آدمی تھا اس لئے میرا ارادہ ہوا کہ جب تک جہاز لنگر ڈالے ہوئے ہے میں یمن کے اندرونی حصہ کے علماء کو دیکھ آؤں۔چنانچہ میں حدیدہ سے مراعہ پہنچا اور وہاں سے میں نے بہت کچھ نفع اٹھایا اور تعجب ہے کہ وہاں کے ایک نوجوان نے مجھ سے الفیہ کی اجازت لکھوائی جو مجھے کو اس وقت بڑے اچنبھے کی بات معلوم ہوتی تھی۔اس نوجوان نے کچھ الفیہ مجھ سے پڑھ بھی لیا۔ان احباب میں سے جو سفر میں میرے شریک تھے دو شخصوں کو میں نے دیکھا کہ بلا کسی حساب کتاب کے