مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 92 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 92

۹۲ کا پڑھ لینا اور وہ بھی صرف عملی حصہ کا پڑھنا پسند کیا تھا۔حکیم صاحب نے ایک دن مجھے فرمایا کہ تم شرح اسباب کسی کو ہمارے سامنے پڑھاؤ۔جس کو میں نے بطیب خاطر پسند کیا اور ایک شخص مولوی محمد اسحاق ساکن نگینہ کو شرح اسباب حکیم صاحب کے سامنے پڑھانی شروع کی اور اس میں مجھے کامیابی ہوئی۔یہ باتیں اس لئے ذکر کر دی ہیں کہ کسی کو فائدہ ہو۔میں جس زمانہ میں طب پڑھتا تھا۔ان دنوں مجھ کو متنبی پڑھنے کا بھی خیال پیدا ہوا۔لہذا میں مفتی سعد اللہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔بہت الحاح سے میں نے انکی خدمت میں عرض کیا کہ مجھ کو آپ ایک سبق پڑھا دیا کریں۔انہوں نے بہت روکھے الفاظ میں یہ فرمایا کہ ہم کو فرصت نہیں۔میں نے کہا اچھا۔اب ہم اسی وقت پڑھیں گے جب آپ ہماری منت کریں گے۔میں مکان پر آیا اور میں نے حکیم صاحب سے عرض کیا کہ میں علم پڑھنا پسند نہیں کرتا انہوں نے فرمایا کیوں؟ میں نے کہا علم سے فائدہ کوئی نہیں۔آپ مجھے غایت علم بتائیں کہ علم سے نتیجہ کیا ملے گا؟ انہوں نے فرمایا کہ علم سے اخلاق فاضلہ پیدا ہوتے ہیں۔حکیم صاحب نے فرمایا کہ بات کیا ہے ، ذرا ہم سے بیان تو کرو۔میں نے کہا مفتی سعد اللہ صاحب کے پاس گیا تھا۔ان سے کچھ پڑھنا چاہتا تھا۔انہوں نے بڑے روکھے پن سے کہا کہ ہم کو فرصت نہیں۔حکیم صاحب نے مطب میں سے ایک پرچہ اٹھا کر مفتی سعد اللہ صاحب کے نام رقعہ لکھا کہ جب آپ کچھری سے فارغ ہوں تو اسی راستہ سے تشریف لا ئیں اور مجھ سے ملتے ہوئے جائیں۔رقعہ آدمی کے ہاتھ بھجوا دیا اور مفتی صاحب کچھری سے اٹھ کر سیدھے حکیم صاحب کے پاس آئے۔مجھ کو حکیم صاحب نے پہلے سے کہہ دیا کہ تم اپنی کو ٹھڑی میں چلے جاؤ۔جب مفتی صاحب تشریف لائے تو حکیم صاحب نے فرمایا کہ اگر میں پڑھنا چاہوں تو آپ کو میرے پڑھانے کے لئے کچھ وقت مل سکے گا۔مفتی صاحب نے بڑے زور شور سے کہا کہ ہاں وقت بہت مل سکتا ہے اور ہم جس وقت کے لئے آپ کہیں ، فرمت نکال سکتے۔حکیم صاحب نے کہا اگر کوئی ہمارے پیرو مرشد پڑھنے لگیں ؟ مفتی صاحب نے کہا ان کو تو جہاں وہ چاہیں ہم خود جا کر پڑھا دیا کریں گے۔تھوڑی دیر کے بعد حکیم صاحب نے مجھ کو ہیں۔