مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 89 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 89

اگر چھ سات سبق ہر روز نہ ہوں تو پڑھنا گویا عمر کو ضائع کرنا ہے۔غرض اس فیصلہ کے بعد حکیم صاحب کے حضور صرف اس لئے گیا کہ آج میں ان سے رخصت ہو کر واپس رامپور جاؤں گا۔لیکن قدرت خداوندی کے کیا تماشے ہیں کہ میری اس ادھیڑ بن کے وقت حکیم صاحب کے نام نواب کلب علی خان نواب رامپور کا تار آیا تھا کہ آپ ملازمت اختیار کر لیں۔علی بخش نام ان کے ایک چیتے خدمت گار علیل ہیں۔ان کا آکر علاج کریں۔دوپہر کے بعد ظہر کی نماز پڑھ کر میں وہاں حاضر ہوا۔اپنے منشاء کا اظہار کر کے عرض کیا کہ اب میں رامپور جانا چاہتا ہوں۔حکیم صاحب نے فرمایا۔تم یہ بتاؤ۔مجھ جیسے آدمی کو ملازمت اچھی ہے یا آزادی سے علاج کرنا۔چار سو روپیہ کے قریب یہاں شہر میں آمدنی ہوتی ہے۔کیا اس آمدنی کو چھوڑ کر ملازمت اختیار کریں ؟ تمہارے خیال میں یہ بھلی بات ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ نوکری آپ کے لئے بہت ضروری ہے۔کیونکہ موجودہ حالت میں اگر آپ کے حضور کوئی شخص اپنے پہلو یا سرین کو کھجلانے لگے تو آپ کو یہی خیال ہو گا کہ کچھ دینے لگا ہے۔اس پر وه بهت قهقهه مار کر ہنسے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں یہ ڈال دیا۔یہ بھی اس شخص کے تصرفات کی کوئی بات ہے۔غرض ہماری ولایت کا وہاں سکہ بیٹھ گیا۔پھر وہ تار نکالا اور کہا کہ کیا یہ آپ کے رامپور جانے کی ترکیب نہیں ؟ اچھا ہم منظور کرتے ہیں اور آپ ساتھ چلیں۔غرض معا رامپور واپس آنے کی تیاری ہو گئی۔رامپور پہنچ کر حکیم صاحب نے کہا کہ اس شخص کی صحت کے لئے تم دعا کرو۔میں نے کہا یہ بچتا نظر نہیں آتا اور مجھے اس کے لئے دعا کی طرف توجہ نہیں ہوتی اور بدوں توجہ دعا نہیں ہو سکتی۔اب یہ جینے یا مرے ہم تو رامپور پہنچ ہی گئے۔آخر علی بخش کا انتقال ہو گیا۔حکیم صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ اس (علی بخش) کے مرنے پر ہمارے شہر کے ایک حکیم ابراہیم صاحب ہیں۔ان کو دربار میں ہم پر ہنسی کا موقع ملا ہے۔میں خدا تعالیٰ کی ہستی کا اقرار کرتا ہوں۔میرے منہ سے بے ساختہ نکلا کہ اس مریض جیسا کوئی ان کے ہاتھ سے بھی مر رہے گا۔آپ کیوں گھبراتے ہیں۔قدرت الہی دیکھونہ گمان نہ خیال۔علی بخش کے بالمقابل ایک دوسرا خدمت گار نواب کا اسی بیماری میں گرفتار ہوا