مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 60 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 60

کو اسباب بناتا ہے اور اسی نے ان میں تاثیر رکھ دی ہے۔(۳)۔تیسرا فائدہ جس کی شہادت تمام انبیاء علیم السلام اور تمام اولیاء کرام یک زبان ہو کر دیتے آئے ہیں یہ ہے کہ جب اس کلمہ کی کثرت کی جاوے اور اسے بار بار سمجھ کو دو ہرایا جاوے تو اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے لئے اور اس کے قرب کی راہ میں جو حجاب اور پر دے ہوتے ہیں وہ آسانی سے بتدریج اٹھ جاتے ہیں۔فقرہ اول کے دو حصے ہیں ایک میں لا إله دوسرے میں الا اللہ ہے۔پہلا حصہ گناہوں کے دور کرنے اور ان سے بچانے کا سامان ہے اور دو سرائیکیوں کے حاصل کرنے کا ذریعہ۔لا الہ میں دنیا کے تمام معبودوں، محبوبوں اور مطلوبوں کی نفی ہے۔جو کوئی چیز انسان کی نظر اور ایمان میں محبوب اور مطلوب ہی نہ رہے تو وہ ان امور پر جو گناہ ہیں جھک کیونکر سکتا ہے۔اصل اشیاء جو اس کے لئے حلال ہیں وہ بھی جب اس کا مقصود بالذات نہ ہونگی تو جو اس پر حرام ہیں ان کی طرف تو وہ توجہ بھی نہیں کر سکتا۔اس طرح پر یہ پہلا حصہ لا إله گنا ہوں سے بچانے کا ذریعہ ٹھہرتا ہے۔کس کس طرح پر ہر ایک گناہ سے انسان اس حصہ پر ایمان لا کر بیچ سکتا ہے یہ لمبی بحث ہے۔دانشمند اس اصل پر جو میں نے بیان کر دیا ہے غور کریں۔الا اللہ سے نیکیوں کی طرف توجہ کیونکر پیدا ہوتی ہے ؟ اس طرح پر کہ جب انسان دنیا کے تمام مطلوبات و محبوبات کو فانی اور ادنی یقین کر کے کامل الصفات خدا کے ساتھ پیوند کرتا ہے تو پھر اس کی تجلی اس کے تمام جذبات کو اپنی رضا کے نیچے کر لیتی ہے اور اس کا اصل مطلوب ہرامر میں خدا ہو تا ہے۔پس وہ کسی کام کو کرتا ہی نہیں جب تک وہ اللہ تعالیٰ کو نہ دیکھ لے۔یعنی جہاں ایک طرف اسے نگران حال پاتا ہے وہاں دوسری طرف اس کی رضا اور اجازت کو دیکھتا ہے۔اس طرح پر وہ نیکیوں کو حاصل کرتا ہے۔پھر اس کلمہ کے ساتھ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُہ کا جملہ اس لئے لگایا کہ آپ نے دیکھ لیا تھا کہ زمانہ گذشتہ میں جو ہادی دنیا کی ہدایت کے لئے وقتافوقتاً آئے ایک زمانہ گذرنے کے بعد ان کو معبود بنالیا گیا اور خدا