مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 59 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 59

۵۹ تقویٰ اختیار کرو اور اپنے باطن کو ایسا پاک صاف کر لو جیسا کہ چاہئے۔خدا تعالیٰ بڑا پاک قدوس اور سب سے بڑھ کر مطہر ہے۔اس کی جناب میں مقرب بھی وہی ہو سکتا ہے جو خود پاک ہے۔گندہ آدمی قبولیت حاصل نہیں کر سکتا۔دیکھو ایک پاک صاف اور عمدہ لباس والا آدمی ایک پیشاب والی گندی جگہ پر نہیں بیٹھتا۔اسی طرح ایک پاک اور قدوس خدا ایک گندے کو اپنا مقرب کس طرح بنا سکتا ہے ؟ اسی واسطے اس نے سعیدوں کے واسطے بہشت اور شعیوں کے واسطے دوزخ بنایا ہے۔ایک ناپاک انسان تو بہشت کے قابل بھی نہیں ہو تا اللہ تعالیٰ کے قرب کے لائق کب ہو سکتا ہے۔الخ (۱۹۱۰ء کے ایام جلسہ سالانہ میں جو خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے فرمایا درج ذیل ہے) أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ أَمَّا بَعْدُ أَعوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيْمِ۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْمِ۔وَالْعَصْرِ - إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۔تمام خطبے جو دنیا میں پڑھے جاتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے لے کر آج تک ان کا ابتدا أَشْهَدُ أن لا إله إلا الله و اشهد ان محمدا عبده و رَسُولُه سے ہوتا ہے۔اس کلمہ کا پہلا حصہ ہے۔لا اله الا اللہ اس کے تین فائدے ہیں۔(1)۔پہلا فائدہ یہ ہے کہ جو شخص اسے باد از بلند پڑھ لیتا ہے ، ہم اسے مسلمان اور شرک سے بیزار سمجھ لیتے ہیں۔(۲)۔دوسرا فائدہ اس کا یہ ہے کہ جب اس کے معنوں پر حقیقی طور پر ایمان ہو تا ہے تو ایسا مومن دنیا کے تمام اسباب اور ذرائع کو تب ذریعہ مانتا ہے جب دیکھ لیتا ہے کہ میرا موٹی ان