مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 212
مانگنے لگا۔۲۱۲ (۹) نومبر ۱۹۱۲ء) میری جوانی کی عمر کا ذکر ہے۔ایک مقدمہ تھا۔فریقین نے مجھ کو منصف قرار دیا۔میں حالات سے واقف نہ تھا۔ایک کمشنر ولایت سے نیا نیا آیا تھا۔اس کے سامنے میں گیا۔اس نے کہا کہ ایک لڑکی نے دعوی ورثہ کا کیا ہے آپ اس کے متعلق کیا کہتے ہیں"۔میں نے قرآن شریف سے نکال کر آیت دکھا دی۔اس نے کہا کہ قرآن شریف کو تو سب مسلمان مانتے ہی ہیں ؟ میں نے کہا ہاں۔اس نے فیصلہ کر دیا۔لڑکی کو حق دلا دیا اور فیصلہ میں لکھ دیا کہ رواج بھی ایسا ہی ہے۔دوسرے فریق نے مجھ سے کہا کہ تم نے یہ کیا غضب کیا۔میں نے کہا تمہارے بزرگوں نے ایسا ہی کیا ہے۔(وہ سید تھے۔انہوں نے اپیل کیا۔مگر کچھ ہوا نہیں کیونکہ کمشنر نے رواج بھی لکھ دیا تھا۔ایک اور واقعہ ہے کہ مجھ کو لوگ اس لئے برا جانتے تھے کہ میں امام کے پیچھے الحمد پڑھتا تھا۔ملک فتح خاں سے کسی نے کہا کہ تم نور دین سے کیوں ملتے ہو ؟ اتفاق سے ان جیسے رئیس نے عدالت میں عند الاستفسار کہہ دیا کہ ہم قرآن شریف کے اس حصہ کو جو حقوق وارثت کے متعلق یعنی بیٹیوں کو حق دلانے کے متعلق ہے نہیں مانتے۔فتح خاں نے ان سے کہا کہ نور دین تو الحمد پڑھتا ہے تم تو قرآن ہی کو نہیں مانتے۔(۲۵) مئی ۱۹۰۹ ء بعد نماز ظهر در مسجد مبارک) ائمہ اربعہ - ائمہ حدیث ائمہ تصوف - ائمہ کلام میں سے کسی نے قرآن شریف کی پوری تفسیر نہیں لکھی۔مجھ کو بچپنے ہی سے تفسیر کا بہت شوق ہے۔میں نے کئی مرتبہ تفسیر لکھنی شروع کی اور پوری نہ ہو سکی۔ایک مرتبہ میں نے بڑی دعا مانگی کہ خدا تعالی تفسیر لکھنے کی توفیق دے۔خواب میں دیکھا کہ مجھ کو ایک دوات دی گئی لیکن وہ خشک تھی۔میں سمجھا کہ