مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 211 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 211

٢١١ کا خلاصہ اور بہتر سے بہتر خلاصہ قرآن کریم ہے۔مولانا مولوی فضل الرحمان صاحب گنج مراد آبادی کے ملفوظات میں میں نے پڑھا ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ ہم نے مولانا شاہ عبد القادر صاحب سے دو سو برس پہلے کا ایک بھا کا کا ترجمہ دیکھا ہے جس میں اللہ کا ترجمہ من موہن لکھا تھا۔مجھ کو تو بڑا شوق ہوا کہ اس ترجمہ میں بڑے بڑے مفید الفاظ ہوں گے سر ملا نہیں۔(یکم جنوری ۱۹۰۶ء) میں نے بہت روپیہ - محنت وقت خرچ کر کے احادیث کو پڑھا ہے اور اس قدر پڑھا ہے کہ اگر بیان کروں تو تم کو حیرت ہو۔ابھی میرے سامنے کوئی کلمہ حدیث کا۔ایک قرآن کا۔ایک کسی اور شخص کا پیش کرو۔میں بتادوں گا کہ یہ قرآن کا ہے یہ حدیث کا اور یہ کسی معمولی انسان کا ہے۔(یکم جنوری ۱۹۰۷ء) مجھ کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک مرتبہ خواب میں فرمایا کہ ربنا أتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ بہت پڑھا کرو۔(۲۴) مئی ۱۹۰۹ ء بعد ظهر) میں نے ایک مرتبہ ایک جگہ ڈیڑھ روپیہ ماہوار کی نوکری کی۔اس شخص سے جس کی نوکری کی۔کچھ نہیں کہا کہ کس قدر علوم و کمالات سے واقف ہوں۔کچھ عرصہ کے بعد جب کام اور نوکری کا تعلق ختم ہو گیا۔میں ان کے یہاں گیا اور برابر گدیلے پر جا کر بیٹھ گیا اور کہا کہ میں حکیم ہوں - محدث ہوں۔ادیب ہوں وغیرہ۔وہ سن کر حیران رہ گیا اور مجھ سے معافی