مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 207
۲۰۷ (۷ار دسمبر ۱۹۱۱ء) میں ایک مرتبہ ایک عیسائی عورت سے شادی کرنے لگا تھا۔لیکن صرف پردہ کے مشکلات کے باعث باز رہا۔(۱۰ر نمبر ۱۹۱۰ء) میرے بہت سے لڑکے مرے۔جب کوئی لڑکا مرتا تو میں یہی سمجھتا کہ اس میں کوئی نقص ہو گا۔خدا تعالیٰ اس سے بہتر بدلہ دے گا۔خد اتعالیٰ کی نعمتوں سے مایوس ہونا تو کافروں کا کام ہے۔خدا تعالیٰ کی نعمتوں کی جب قدر نہیں کی جاتی تو وہ نعمتیں چھن جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کی نعمتیں جاتی ہی نہیں مگر ناشکری سے۔جب نعمت چلی جائے تو آدمی مایوس نہ ہو۔(۴ مارچ ۱۹۰۹ء) میرے بچے جب مرے تو میرے دل میں یہی ڈالا گیا کہ اگر تم مرتے تب بھی یہ تم سے جدا ہو جاتے۔(۲۰) اکتوبر ۱۹۱۲ء) مجھ کو شاہ ولی اللہ صاحب کا فارسی ترجمہ قرآن کریم کے تمام ترجموں میں پسند ہے۔میں نے ایک مرتبہ اپنی لڑکی امامہ کو وہ پڑھانا چاہا۔اس لئے اول اس کو فارسی پڑھانی شروع کی۔وہ لڑکی بڑی ہی ذہین اور پڑھنے لکھنے میں بہت ہو شیار تھی۔میں نے اس کو اول کریما شروع کرائی۔میں خود ہی اس کو پڑھایا کرتا تھا۔ایک دن سبق آیا کہ ة بده ساقیا آب آتش لباس اب میں حیران تھا کہ اس کو کس طرح پڑھاؤں میں نے کہا کہ امامہ آج تو رہنے دو سبق کل پڑھائیں گے۔اگلے روز میں نے وہ آب آتش لباس و الا ورق پھاڑ دیا اور اس طرح پھاڑا