مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 200
۲۰۰ (جنوری ۱۹۰۷ ءو در درس حدیث) میرا حافظہ کچھ اس قدر تیز ہے کہ مجھے دودھ چھوڑنا بھی یاد ہے۔میری ماں نے جب اپنی چھاتی پر کچھ لگایا تو میں نے اپنے بڑے بھائی سے کہا۔حوا ہے۔اار فروری ۱۹۱۰ء) مجھ کو اپنے سن تمیز سے بھی پہلے سے کتابوں کا شوق ہے۔بچپنے میں جلد کی خوبصورتی کے سبب کتابیں جمع کرتا تھا۔سن تمیز کے وقت میں نے کتابوں کا بڑا انتخاب کیا اور مفید کتابوں کے جمع کرنے میں بڑی کوشش کی۔(۲۲) اپریل ۱۹۱۲ء ) میں نے کبھی کوئی کھیل نہیں کھیلا۔میں نے صرف ایک ہی کھیل کھیلا ہے اور وہ تیرنا ہے۔مجھ کو تیرنا خوب آتا ہے۔بعض اوقات میں بڑے بڑے عظیم الشان دریاؤں میں بھی تیر تا تھا۔(۱۳) فروری ۱۹۱۲ء) میرے سامنے میرے ساتھ کھیلنے والے لڑکوں نے کبھی کوئی گالی نہیں دی بلکہ مجھ کو دور سے دیکھ کر آپس میں کہا کرتے کہ یا رو سنبھل کر بولنا۔(۰ار اکتوبر ۱۹۱۲ء) سمت ۱۹۰۳ (بکرمی) کی بات ہے جس کو اب قریباً ۶۶ برس گزر گئے ہوں گے مجھے کو اس طرح یاد ہے جیسے ایک اور ایک دو کہ ایک مردانہ نام چاوہ کاڑا کو تھا۔سکھوں کا عہد تھا اس کو پکڑ کر اس کا سرا ڈرا دیا گیا تھا۔ہمارے شہر میں چٹی پل دروازہ پر اس کا سر لٹکا دیا تھا۔چونکہ وہ بڑا