مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 193 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 193

۱۹۳ اہل خاندان- ایام طفولیت (۸) فروری ۱۹۱۰ ء در مسجد مبارک بعد نماز ظهر) ہمارے باپ کے نہ کوئی بھائی تھانہ بہن تھی۔ہمارے دادا کے نہ کوئی بھائی تھانہ بہن۔اسی طرح ہمارے پردادا کے۔غرض کہ ہماری گیارہ پشتوں تک ایک ہی ایک شخص ہوا ہے۔پھر دیکھو ہم کتنے بھائی اور بہن ہوئے اور ہماری اولاد تو اور بھی زیادہ (۲۳) ستمبر ۱۹۰۹ء - بعد نماز عصر در مسجد مبارک) ہم نو بھائی بہن تھے۔میں اپنے تمام بھائی بہنوں سے چھوٹا ہوں۔میں اپنے ماں باپ کی سب سے آخری اولاد ہوں۔ہمارے باپ نے ہم سب کو پڑھانے کی بے حد کوشش کی۔ہمارے ایک بڑے بھائی تھے جو ہم سب میں بڑے خوبصورت تھے۔ہمارے باپ کے حکم کے موافق وه مدن چند ایک جذامی کے پاس پڑھنے جاتے تھے۔اس وقت سی زبان کا عام رواج تھا اور مدن چند فارسی کا ماہر تھا۔شہر والوں نے کہا کہ آپ اچھے ہوتے کو کوڑھی کے پاس پڑھنے بھیجتے ہیں ؟ ہمارے باپ نے فرمایا کہ کوڑھی ہو اور عالم ہو تو جاہل تندرست سے اچھا ہے۔ہم سب بھائی نہن بحمد للہ پڑھے لکھے تھے۔ہماری بہنیں بھی خوب لکھ پڑھ سکتی تھیں۔ہمارے باپ علم کے بڑے ہی قدر دان تھے۔جب ہماری سب سے بڑی بہن کی شادی ہوئی تو ہمارے باپ نے جہیز میں سب سے اوپر قرآن شریف رکھ دیا اور کہا کہ ہماری طرف سے یہی ہے۔اس قرآن شریف کا کاغذ حریری باریک بڑی محنت اور صرف زر سے میسر ہوا تھا۔جلالپور جٹاں کے مولوی نور احمد صاحب نے سو روپیہ میں صرف لکھ کر دیا۔جدول۔رول - آیتیں بنانا۔رنگ بھرنا۔سونے کا پانی پھیرناوغیرہ علاوہ۔