مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 159
۱۵۹ ہمارے گھر میں آئے۔میں نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ آپ کا چہرہ زرد ہے زمین پر لیٹے ہیں اور ڈاڑھی منڈی ہوئی ہے۔میں ہوشیار ہوا تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ نکاح سنت کے خلاف واقع ہوا ہے۔تب میں نے ایک خط میاں نذیر حسین دہلوی اور ایک خط شیخ محمد حسین بٹالوی کو لکھا اور اس میں لکھ دیا کہ وہ بیوہ بالغ ہے، ولی مانع ہے۔یہ تو اب مجھ کو یاد نہیں کہ ان دونوں میں سے کس کا خط آیا تھا مگر ایک کا خط آیا۔جس میں لکھا تھا کہ ایسے ولی معزول ہو جاتے ہیں اور ایسی بیوہ اپنے اختیار سے نکاح کر سکتی ہے کیونکہ حديث لا نكاح إلا بولی میں کلام ہے میرے تو مطلب کے مطابق تھا۔میں بڑا خوش ہو کر اٹھا کہ اب اس کو گھر میں بلالوں بیٹھک کے پھاٹک پر پہنچا تو ایک شخص حدیث کی کتاب لایا اور کہا یہ حدیث سمجھارو الاثم ما حا فی صد رک ولو افتاک المفتون اس کے دیکھتے ہی میرا بدن بالکل سن ہو گیا اور میں نے کہا کہ تم لے جاؤ پھر بتا دیں گے۔میں نے یہ سمجھا کہ خدا تعالیٰ نے مجھ کو آگاہ کیا ہے کہ ان مفیتوں کے فتووں کی طرف توجہ نہ کرو میں نے وہ پھاٹک بند کر دیا۔بیٹھک کے اندر دالان میں آیا۔میرے دل میں یہ بھی خیال آتا تھا کہ اول تو حدیث میں کلام ہے دوسرے مفتی نے فتویٰ دے دیا ہے۔بهر حال دالان میں آتے ہی مجھے پر نوم غیر طبعی طاری ہو گئی۔میں لیٹ گیا تو میں نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا۔اس وقت آپ کی عمر پچیس برس کے قریب معلوم ہوتی تھی۔گویا وہ عمر تھی جب آپ کی شادی ہوئی ہوگی۔میں نے دیکھا کہ بائیں جانب سے آپ کی ڈاڑھی خشخشی ہے اور داہنی طرف بال بہت بڑے ہیں اور میں حضور میں بیٹھا ہوں۔میں نے دل میں سوچا کہ بال دونوں طرف کے برابر ہوتے تو بہت خوبصورت ہوتے۔پھر معا میرے دل میں آیا کہ چونکہ اس حدیث کے متعلق تجھ کو تامل ہے اس لئے یہ فرق ہے۔تب میں نے اسی وقت دل میں کہا کہ اگر سارا جہان بھی اس کو ضعیف کہے گا تب بھی میں اس حدیث کو صحیح سمجھوں گا۔یہ خیال کرتے ہی میں نے دیکھا کہ دونوں طرف ڈاڑھی برابر ہو گئی اور حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور مجھ سے کہا کہ کیا تو کشمیر دیکھنا چاہتا