مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 128 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 128

IPA رو وسرا واقعہ عجیب یہ ہے کہ ایک جگہ ہم نے ڈیرا کیا۔میرے مقام کے قریب ایک الشان خیمہ تھا۔اس کے اندر بڑا مباحثہ ہو رہا تھا۔میں نے اس خیمے کے اندر جانا تو مناسب نہ سمجھا۔انکے مباحثہ پر میں بہت متوجہ رہا۔آخری فقرہ جو ایک مقلد نے پیش کیا یہ تھا کہ کسی مسئلہ میں کسی امام کے بالمقابل ترجیح دینا اس شخص کا کام ہو سکتا ہے جو اپنے کامل دلائل اور جس کے خلاف چلتا ہے، اس کے دلائل کے جوابات کامل طور پر جانتا ہو اور اگر اس قدر وسیع واقفیت نہ ہو تو ترجیح کس طرح ہو سکتی ہے۔لہذا تم لوگ کسی مسئلہ میں ترجیح کے مستحق نہیں۔اس وقت مجھ کو یہ خیال آیا کہ کم سے کم ہم بھی اس کا کچھ جواب تو دیں اور جوانی کی ایک ترنگ تھی۔میں نے بلند آواز سے کہا۔جب ایک مسئلہ میں اتنے بڑے علم کی ضرورت ہے تو ایک امام کو دوسرے پر تمام مسائل میں ترجیح دینے کے لئے تو لاکھوں علوم کی ضرورت ہو گی۔ہماری اس آواز نے بھی کچھ بجلی کا سا کام دیا۔مگر وہ لوگ کچھ امراء تھے اور ان دنوں مجھ کو امراء سے تنفر تھا۔جب مکہ معظمہ کے قریب پہنچے تو میں نے ایک حدیث میں پڑھا تھا کہ حضرت نبی کریم کداء کی طرف سے مکہ میں داخل ہوئے تھے۔لیکن آدمیوں کی بار برداریاں اور سواریاں اس راستہ نہیں جاتی تھیں۔اس واسطے میں ذی طوی سے ذرا آگے بڑھ کر اونٹ سے کود پڑا۔اور گداء کے راستہ سے مکہ میں داخل ہوا۔مجھے افسوس ہوا کہ اس رستہ سے بہت ہی تھوڑے لوگ گئے۔حالانکہ کوئی حرج نہ تھا۔صرف ہمت، قوت اور معلومات کافی تھی۔مکه معظمہ میں میں جہاں رہتا تھا۔میری عادت تھی کہ اکثر وہیں سے احرام باندھ کر عمرہ ادا کر لیا کرتا تھا۔جن کے گھر میں رہتا تھا وہ ایک بوڑھے شخص مخدوم کہلاتے تھے۔انہوں نے میری اس حرکت کو بار بار دیکھ کر کہا کہ آپ تنعیم سے کیوں احرام نہیں باندھتے ؟ میں نے کہا کہ میں طالب علم آدمی ہوں۔میرے پاس اتنا وقت کہاں ہے۔آنے جانے میں چھ سات میل کا سفر ہے اور پھر بلا ضرورت اور بیہودہ بات ہے۔احادیث صحیحہ سے