مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 126
ہو گھنے سے بھی ڈر معلوم ہو تا تھا۔وہاں ایک باب الرحمت ہے۔اس پر لکھا ہوا ہے۔کیا عِبَادِيَ الَّذِيْنَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ۔اس کو پڑھ کر پھر بھی بہت ڈرتا وااور حیرت زدہ سا ہو کر مسجد کے اندر گھسا اور بہت ہی گھبرایا۔جب میں منبر اور حجرہ شریف کے درمیان پہنچا اور نماز ادا کرنے لگا تو رکوع میں مجھے جس خیال نے بہت زور دیا وہ یہ تھا کہ حدیث صحیح میں آیا ہے کہ مابین بیتی و مِنْبَری روضة من رياض الجنة اور جنت تو وہ مقام ہے جہاں جو التجا کی جاتی ہے وہ مل جاتی ہے۔پس میں نے دعا کی۔الہی میرا یہ قصور معاف کر دیا جائے۔مکه معظمہ میں دوسری مرتبہ جب میں مدینہ سے مکہ کو چلا۔راستہ میں دو واقعے بڑے عجیب پیش آئے۔اول یہ کہ میں ہمیشہ سنتا تھا کہ مسافروں اور بدوؤں میں لڑائی ہو جاتی ہے۔اس پر میں نے خود بہت غور کیا ہے۔اس کے دو باعث معلوم ہوتے ہیں۔ایک یہ کہ بد وہندوستانی نہیں سمجھتے اور ہندوستانی عربی نہیں جانتے۔ایک کچھ کہتا ہے تو دوسرا سمجھتا نہیں۔جب ایک کا مطلب دوسرا نہیں سمجھتا تو دونوں جلد تیز ہو جاتے ہیں۔پس پہلا سب لڑائی اور بد مزگی کا زبان کی ناواقفیت ہے۔دو سرا سبب مجھ کو یہ معلوم ہوا کہ عربوں میں دستور ہے کہ کھانا کھاتے ہوئے کوئی دوسرا شخص آکر شامل ہو جائے تو روکتے نہیں۔اب مثلاً کسی نے ایک آدمی کے قابل کھچڑی پکا کر ایک بدو کو دی تو سب کے سب اس میں شریک ہو جاتے ہیں اور اس طرح سب کے سب بھوکے ہی رہتے ہیں۔بھو کا آدمی دیسے بھی جلد برافروختہ اور غضب ناک ہو جاتا ہے۔میں نے ان دونوں اصولوں کو پیش نظر رکھ کر بہت سی کھجوریں خرید کر بدوؤں کی نظر سے پوشیدہ خوب محفوظ کر کے رکھ لی تھیں۔جب آدھی رات کا وقت ہو تا تو میں ایک بک خوب بھر کر کھجوریں خاموشی کے ساتھ اپنے بدو کو دے دیتا تھا جس سے اس کا پیٹ خوب بھر جاتا تھا