مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 120
فرمایا کہ "سمعی کشفی گردد و دید بشنید مبدل گردد" اور یہ وہ جواب ہے جو نجم الدین کبری نے دیا ہے۔پھر میں نے اپنے دونوں ہاتھ بڑھائے۔لیکن اس وقت آپ نے اپنے ہاتھ کو ذرا سا پیچھے ہٹالیا اور فرمایا تمہیں وہ حدیث یاد ہے جس میں ایک صحابی نے درخواست کی تھی کہ اسئلک مرافقتک فی الجنة میں نے عرض کیا خوب یاد ہے۔آپ نے فرمایا۔اس امر کے لئے تم کو اگر اصول اسلام سیکھنے ہوں تو کم سے کم چھ مہینے میرے پاس رہنا ہو گا اور اگر فروع اسلام سیکھنے ہیں تو ایک برس رہنا ہو گا۔تب میں نے پھر اور بھی جب ہاتھ بڑھایا تو آپ نے میری بیعت لی اور فرمایا کہ کوئی مجاہدہ سوائے اس کے آپ کو نہیں بتاتے کہ ہر وقت آپ آیت و نحن أقرب إليه من حبل الورید پر توجہ رکھیں۔پھر والله معكم این ما کنتم کی نسبت ایسا ہی فرمایا۔اس توجہ میں میں نے بارہا حضرت نبی کریم کو دیکھا اور اپنی بعض غفلتوں اور سستیوں کے نتائج کا مشاہدہ کیا۔چھ مہینہ کے اندر اندر آپ کا وہ وعدہ میرے حق میں بہر حال پو ر ا ہو گیا۔جزاه الله عنی احسن الجزاء آپ بڑے محتاط تھے اور آپ کی نظر دینی علوم میں بڑی وسیع تھی۔بہت قلیل الکلام تھے۔مثنوی، ترمذی ، بخاری ، رسالہ قشیریه یه چار چیزیں آپ کے درس میں ہوتی تھیں۔آپ کے کھانے پینے کے عجائبات میں سے ایک یہ بات ہے کہ ہمارے یہاں قادیان میں جو اکبر خاں سنوری حضرت مسیح موعود کے مرید اور خاص خادم رہتے ہیں۔ان کے ایک حقیقی بھائی ولی داد خاں صاحب تھے جو مدینہ منورہ میں حضرت شاہ صاحب کی خدمت میں اسی طرح رہتے تھے ان کو ایک دفعہ گیہوں خریدنے کے لئے بھیجا۔وہ نہایت عمدہ گیہوں جس میں جو کا ایک دانا بھی نہ تھا لائے۔ولی داد خاں کو تو کچھ نہ فرمایا۔لیکن آئندہ بازار کا سودا ان کی معرفت منگوانا بند کر دیا۔ولی داد خاں چونکہ منجملہ بڑے احباب کے تھے بہت گھبرائے۔آخر ایک شخص کو پھر گیہوں خریدنے کے لئے بھیجا۔اس شخص نے وہ روپیہ جو گیہوں خریدنے کا تھا ، ولی داد خاں کو دیا اور یہ کہا کہ اب کی دفعہ جو گیہوں حضرت صاحب کے واسطے لاؤ تو اس