مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 108 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 108

HA لئے یہ پیسے جائز ہیں یا نہیں۔میں یہ سوچنے لگا اور وہ شخص اتنے میں غائب ہو گیا۔میں نے وہاں سے اٹھ کر دو پیسے کی روٹی کھائی۔اور چار پیسے کی دیا سلائیاں خریدیں جو بارہ ڈبیاں ملیں۔چونکہ مجھ کو گلی کوچوں میں دن بھر چلنے کی عادت تو تھی ہی۔ان دیا سلائیوں کو ہاتھ میں لے کر کبریت کبریت کہتا پھرتا تھا۔تھوڑی دیر میں وہ چھ پیسے کی بک گئیں۔پھر میں نے چھ پیسے کی خریدیں وہ بھی اسی طرح بیچ دیں۔آخر شام تک میرے پاس ایک چونی ہو گئی۔دو پیسے کی روٹی کھا کر رات کو سو رہا۔دوسرے دن پھر دیا سلائیاں خریدیں اور اسی طرح بیچیں۔چند روز کے بعد وہ اتنی ہو گئیں کہ جن کے اٹھانے میں دقت ہوتی تھی۔آخر میں نے وہ مختلف چیزیں جنکی عورتوں کو ضرورت ہوتی ہے خریدیں اور بقیہ کمر سے لگا کر پھرنے لگا۔مگر سودا ایسا خرید تا تھا اور نفع اس قدر کم لیتا تھا کہ شام تک سب فروخت ہو جائے۔رات کو بالکل فارغ ہو کر سوتا تھا۔کچھ دنوں بعد ایک چادر بچھا کر اس پر سودا جما کر بیٹھ جاتا اور فروخت کرتا۔پھر اس قدر ترقی ہو گئی کہ میں نے نصف دکان کرایہ پر لے لی۔پھر اس قدر ترقی ہوئی کہ میں بمبئی آگیا وہاں قرآن شریف خرید تا اور ارد گرد کے گاؤں اور قصبوں میں لے جاکر فروخت کرتا۔پھر میری ایسی ساکھ بڑھی کہ میں تمہیں ہزار روپیہ کے قرآن شریف خرید کر تمہارے شہر بھیرہ میں لے گیا اور تمہارے والد نے وہ سب کے سب خرید لئے۔مجھ کو اس میں منافع عظیم ہوا۔پھر دوبارہ اسی طرح ہزاروں ہزار کے قرآن شریف خرید کرلے جاتا۔جب میں نے دیکھا کہ اب روپیہ بہت زیادہ ہو گیا ہے اور اس تجارت سے بڑھ کر ہے تو میں نے کپڑے کی تجارت شروع کی۔یہ میری عادت تھی کہ مال بہت جلد فروخت کر دیتا اور نفع بہت کم لیتا تھا۔اب مال اس قدر بڑھا کہ میں برھان پور سے اس کو اٹھا نہ سکا۔میں نے یہیں کو ٹھی بنالی اور اب میں اتنا بڑا آدمی ہوں۔اس سے مجھ کو اس حدیث کا مضمون صحیح ثابت ہوا کہ جس میں ارشاد ہے کہ تجارت میں بڑا رزق ہے۔میں جب بمبئی پہنچا تو مولوی عنایت اللہ صاحب سے ملاقات ہوئی مجھے اس زمانہ میں فوز الكبیر کا بڑا شوق تھا۔میں نے ان سے کہا کہ آپ یہ کتاب مجھ کو کہیں سے پیدا