حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ ؓ

by Other Authors

Page 35 of 100

حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ ؓ — Page 35

سوانح میاں محمد موسیٰ صحابی حضرت مسیح موعود ہمسائیگی کا حق ادا نہیں کیا لیکن ان کی دیکھ بھال کرنامیر افرض بنتا ہے۔قصہ مختصر وہ شاہکار تحریر گھر کے سامان کے ساتھ ضائع ہو گئی۔سب افرادِ خاندان کو جس کا ہمیشہ قلق رہے گا۔حضرت مسیح موعود کی کتابوں کے پہلے ایڈیشن ابا جان نے بڑی عقیدت اور محبت سے جمع کر رکھے تھے وہ سب ان بد بختوں نے نذر آتش کر دیے۔والد صاحب آخری دم تک ان قلمی نسخوں کا ذکر کرتے رہتے تھے لیکن گھر اور دکان کے سامان کے کٹ جانے کا کبھی ذکر نہ کیا۔قبول احمدیت کے بعد دادا جان اپنے خاندان اور دوست احباب سے کلیتا کٹ کر رہ گئے تھے۔دادا جان کو ان کی کچھ پرواہ نہ تھی پر واہ تھی تو صرف اپنے آقا حضرت مسیح موعودؓ کی کہ وہ کس طرح خوش ہو سکتے ہیں۔ان کی ہر بات کو من و عن بجالاتے۔آپ نے جو بھی تحریک فرمائی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔بیعت کے بعد انہوں نے اپنی دنیا الگ سے بسالی تھی۔زیادہ میل جول صرف جماعت احمدیہ کے احباب سے تھا۔اپنے غیر احمدی عزیزوں رشتہ داروں سے قطع تعلق کر لیا تھا۔حضرت دادا جان نے میرے والد میاں محمد یحیی صاحب کی شادی حضرت جان محمد صاحب ابن حاجی گلاب دین صاحب موضع بھڈیار ضلع امر تسر کی صاحبزادی محترمہ فردوس بیگم سے کی۔حضرت جان محمد صاحب اولین صحابہ میں سے تھے۔24 ان کا بیعت کا سن 1898 ہے۔ان کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا۔دادا جان کی وفات کے بعد آبائی گاؤں کے غیر احمدی احباب نے ہماری دادی جان سے دوبارہ تعلق قائم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔انہوں نے انہیں خوش آمدید کہا لیکن ساری زندگی ان غیر احمدیوں کے گھرانوں میں اپنے بچوں کی شادیاں نہ کیں۔24 لاہور تاریخ احمدیت مرتبہ حضرت شیخ عبد القادر صاحب، محترم مستری جان محمد “، صفحہ 278، مطبوعہ فروری 1966ء ، ناشر عبد المنان کوثر، طاہر مہدی امتیاز احمد وڑائچ نے ضیاء الاسلام ربوہ ( چناب نگر) سے طبع کیا۔35