لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 317
کاروائیاں خلیفہ وقت کی تیار کردہ سکیم اور اس کی ترقی کی خاطر ہوں۔جماعت کے اتحاد کے لئے وہ دینی تعلیمات کے مطابق ہر قربانی کے لئے تیار رہیں۔اخلاق اور روحانیت کی اصلاح اور اس کے ذرائع پر غور و فکر ان کے پیش نظر ہو۔بچوں کی تربیت میں اپنی ذمہ داری کو خاص طور پر سمجھیں کہ ان کی دینی زندگی چست ہو۔پس اس تنظیم کو جن اعلیٰ مقاصد کے لئے بنایا گیا تھا انہیں ہمیشہ پیش نظر رکھیں۔اسلام نے عورت کو بہت بلند مقام عطا کیا ہے اور اس پر بہت سے ذمہ داریاں بھی عائد کی ہیں۔مثلاً بچوں کی تربیت کی ذمہ داری اللہ اور اس کے رسول نے عورتوں پر ڈالی ہے۔اگر ہماری عورتیں خدا سے پیار کرنے والی ہیں، اگر خدا تعالیٰ کا خوف دل میں رکھنے والی ہیں تو ان کو اپنی نسلوں کو سنبھالنے کے لیے اس ماحول میں بڑی محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ہر احمدی عورت کو اپنے نمونوں کے ساتھ اور دعاؤں کے ساتھ ایسی عمدہ اور اعلیٰ معیار کی تربیت کی ضرورت ہے کہ کہا جاسکے کہ یہ مائیں تو ایک ایسا وجو د ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹ کر اپنی اولاد کو ایک قیمتی سرمائے کی صورت میں جماعت کو دے رہی ہیں۔یہ اولادیں، یہ بچے آپ کے پاس جماعت کی امانت ہیں اور ان کی تربیت کی وجہ سے یہ سب بچے خدا تعالیٰ کے پسندیدہ مال بن چکے ہیں۔یہ لوگ ہیں جن پر 317