لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 245
اسے سمجھایا اور کچھ دن کے بعد اسے سمجھ آگئی اور مسلمان ہو گیا۔مسلمان ہونے کے دوسرے تیسرے دن اس کی جان نکل گئی اور اس پر ماں نے کچھ غم نہ کیا۔الازهار لذوات الخمار جلد اول صفحہ 18 تا 19) پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے لوگوں کا یہ ایمان تھا۔فکر تھی تو ایمان کی فکر تھی۔آج بھی انہی نیک نمونوں پر چلنے اور اپنے اور اپنے بچوں کے ایمان کی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔بعض صحابیات مثلاً أم المومنین حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ، حضرت نواب امتۃ الحفیظ صاحبہ، حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ، حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ کی سیرت و سوانح پر کتب موجود ہیں۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی بھی ”میری والدہ “ کے عنوان سے ایک کتاب ہے۔اسی طرح اصحاب احمد کی جلدوں میں بھی بعض کے حالات موجود ہیں۔بعض صحابیات کی روایات محفوظ ہیں جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت سے استفادہ کرنے ، حضور کے ان سے حسن سلوک اور اس زمانہ اور ماحول کی باتوں کا پتہ چلتا ہے۔ان کتب کو پڑھیں۔آپ کو ایمانی تقویت ملے گی۔امام وقت سے عقیدت و محبت میں ترقی ہوگی۔دین کی خاطر قربانی کا جذبہ پیدا 245