لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 152
ہے کہ تعلیم قرآن کے نظام کو منظم کیا جائے۔اگر آپ ناظرہ جانتی ہیں تو قرآن کریم کا ترجمہ سیکھنا شروع کر دیں۔جب آپ کو قرآن کریم کی تعلیمات کا پتہ چلے گا تو آپ کو ایسے دلائل میسر آجائیں گے جن کے ذریعہ سے آپ میں غیر وں کو اسلام کی خوبصورت تعلیمات سے متعارف کرانے کا حوصلہ اور شجاعت پیدا ہو گی۔آنحضور صلی ایم نے فرمایا ہے : تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن کریم سیکھتا ہے اور دوسروں کو سکھاتا ہے۔پس ایسی لجنات جو قرآن کریم ناظرہ جانتی ہیں وہ ترجمہ سیکھیں اور اپنے ماحول میں بچوں کو قرآن کریم کی تعلیم دیں۔اسی طرح تلاوت قرآن کریم کا خاص اہتمام کریں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ فجر کی تلاوت کو اہمیت دے، یقیناً فجر کو قرآن پڑھنا ایسا ہے کہ اس کی گواہی دی جاتی ہے۔“ (بنی اسرائیل :79) احادیث میں بھی تلاوت قرآن کریم کی بڑی اہمیت بیان ہوئی ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کریم پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی سی ہے کہ جس کا مزہ بھی اچھا ہوتا ہے اور خوشبو بھی عمدہ ہوتی ہے۔اور اس مومن کی مثال جو قرآن کریم کی تلاوت نہیں کرتا کھجور کی طرح ہے کہ اس کا مزہ اچھا ہے لیکن اس کی خوشبو نہیں ہوتی۔اور اس فاجر کی 152