لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 153
مثال جو قرآن کریم کی تلاوت کا عادی ہے گل ریحان کی طرح ہے جس کی خوشبو تو اچھی ہوتی ہے لیکن اس کا مزہ کڑوا ہوتا ہے اور اس فاجر کی مثال جو قرآن کریم نہیں پڑھتا حنظل کی طرح ہے جس میں مہک اور خوشبو بھی نہیں ہوتی اور اس کا مزہ بھی تلخ اور کڑوا ہوتا ہے۔(ابو داؤد۔کتاب الادب، باب من یو کمر ان بیجالس) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”سو تم قرآن کو تدبر سے پڑھو۔اور اس سے بہت ہی پیار کرو، ایسا پیار کہ تم نے کسی سے نہ کیا ہو کیونکہ جیسا کہ خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ الْخَيْرُ كُلُّهُ فِي القُرآنِ کہ تمام قسم کی بھلائیاں قرآن میں ہیں، یہی بات سچ ہے۔افسوس ان لوگوں پر جو کسی اور چیز کو اس پر مقدم رکھتے ہیں۔تمہاری تمام فلاح اور نجات کا سر چشمہ قرآن میں ہے۔کوئی بھی تمہاری ایسی دینی ضرورت نہیں جو قرآن میں نہیں پائی جاتی۔تمہارے ایمان کا مصدق یا مکذب قیامت کے دن قرآن ہے اور بجز قرآن کے آسمان کے نیچے اور کوئی کتاب نہیں جو بلا واسطہ قرآن تمہیں ہدایت دے سکے۔خدا نے تم پر بہت احسان کیا ہے جو قرآن جیسی نعمت تمہیں عنایت کی۔“ کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 26 تا27) 153