میری والدہ — Page 27
۲۷ اُم المومنین کی خدمت میں پہنچا دو۔کیونکہ آپ نے اچار سے رغبت ظاہر کی تھی اور والدہ صاحبہ نے عرض کیا تھا کہ ہمارے ہاں بہت عمدہ اچار موجود ہے۔جب والد صاحب کچہری سے واپس آئے۔تو انہوں نے والدہ صاحبہ سے دریافت کیا۔” کیا آپ میرزا صاحب کی زیارت کے لئے گئے تھے؟‘ والدہ صاحبہ نے جواب دیا۔” گئی تھی۔والد صاحب نے پوچھا۔” بیعت تو نہیں کی ؟“ والدہ صاحبہ نے سینہ پر ہاتھ کر کہا۔الحمد للہ کہ میں نے بیعت کر لی ہے۔اس پر والد صاحب نے کچھ رنج کا اظہار کیا۔والدہ صاحبہ نے جواب دیا کہ یہ ایمان کا معاملہ ہے۔اس میں آپ کی خفگی مجھ پر کوئی اثر نہیں کرسکتی۔اگر یہ امر آپ کو بہت ناگوار ہے۔تو آپ جو چاہیں فیصلہ کر دیں۔جس خدا ئے اب تک میری حفاظت اور پرورش کا سامان کیا ہے وہ آئندہ بھی کریگا۔ممکن ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے قیام سیالکوٹ کے دوران میں والدہ صاحبہ کو اس کے بعد بھی حضور کی زیارت نصیب ہوئی ہو۔لیکن حضور کے سیالکوٹ سے واپس تشریف لے جانے کے بعد والدہ صاحبہ کو پھر کوئی موقعہ حضور کی حیات میں حضور کی زیارت کا میسر نہیں آیا۔دراصل تو انہوں نے عہد اخلاص دو فار ڈیا میں ہی باندھا۔پھر بیعت کے الفاظ میں اس کی تجدید کی اور اس کی ظاہری شہادت قائم کی اور پھر آخرمی سانس تک اُسے اس طریق سے نباہا کہ جیسے اُس کا حق تھا۔بیعت کے بعد ہر دن جو اُن پر چڑھا بلکہ ہرلحظہ جوان پرگز را، وہ اُن کے ایمان اور اخلاص کی ترقی پر شاہد ہوا۔اُن کا ایمان شروع ہی سے عشق کی جھلک اپنے اندر رکھتا تھا اور رفتہ رفتہ اس عشق نے اس قدر ترقی کی کہ انہیں ہر بات میں ہی اللہ تعالیٰ کا جلال اور قدرت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نور اور مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت نظر آتی تھی۔بیعت کے بعد اُن کے عمل میں بھی جلد جلد تبدیلی ہوتی گئی۔اصل تربیت تو اُن کی اللہ تعالی نے رویا اور کشوف کے ذریعہ ہی جاری رکھی۔لیکن ظاہر میں بھی جب کبھی