میری والدہ — Page 25
۲۵ خاطر خواہ انتظام تھا۔سپرنٹنڈنٹ پولیس اور اکثر حکام ضلع اور آنریری مجسٹریٹ انتظام کی نگرانی کے لئے موجود تھے۔بازاروں میں اور مکانوں کی کھڑکیوں اور چھتوں پر کثرت سے لوگ موجود تھے۔اکثر تو ان میں سے زائر یا تماشہ مین تھے۔بعض مخالف بھی تھے۔مخالف علماء اور سجادہ نشینوں نے ہر چندلوگوں کو روکنے کی کوشش کی کی تھی کہ حضور کے استقبال یا زیارت کے لئے نہ جائیں۔لیکن یہ مخالفت خود اس ہجوم کے بڑھانے میں محمد ہوگئی۔خاکسار بھی والد صاحب کے ہمراہ سٹیشن پر گیا۔لیکن ہجوم کی کثرت کی وجہ سے ہمیں حضور کی گاڑی کے قریب پہنچنے کا موقعہ نہ ملا۔دُور سے اپنی گاڑی میں بیٹھے ہوئے استقبال کا نظارہ دیکھتے رہے اور جب حضور کی سواری ایک جلوس کی صورت میں سٹیشن سے روانہ ہوگئی۔تو ہم واپس آگئے۔لیکن میرے ماموں صاحب جلوس کے ساتھ ساتھ گئے اور حضور کے اپنے جائے قیام پر پہنچ جانے کے بعد گھر واپس آئے اور اُن سے ہم نے تفصیل کے ساتھ وہ واقعات سنے۔جو حضور اور حضور کے رفقاء کوٹیشن سے لے کر حضور کی قیام گاہ تک پیش آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مع اپنے اہل بیت اور افراد خاندان کے حضرت میر حامد شاہ صاحب مرحوم کے مکان پر فروکش ہوئے ا، حضرت خلیفہ اسیج اول رضی اللہ عنہ کا قیام بابو عبد العزیز صاحب مرحوم کے مکان : قرار پایا۔والدہ صاحبہ کا احمدی ہونا دوسری صبح ہی والدہ صاحبہ نے والد صاحب سے اجازت طلب کی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوں۔والد صاحب نے اجازت دیدی۔لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ آپ دیکھ آئیں۔لیکن بیعت نہ کریں۔میں بھی