میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 17 of 102

میری والدہ — Page 17

12 خوشگوار پایا اور جوں جوں میں اُس تالاب میں آگے بڑھتی جاتی تھی۔چیونٹیاں میرے جسم سے اترتی جاتی تھیں اور میرا جسم بالکل صاف اور بلکا ہوتا جا تا تھا۔اس خواب سے بیدار ہونے پر میں نے اللہ تعالی کا بہت بہت شکر کیا اور اپنے دل سے عہد کیا کہ اب ہرگز ان باتوں میں حصہ نہ لوں گی اور اس کے بعد مجھے آرام سے نیند آنے لگی۔کچھ عرصہ بعد ہمارے چچا صاحب کا بڑا بیٹا فوت ہو گیا اور ہماری والدہ کو پھر ان رسوم میں تھوڑا بہت حصہ لینا پڑا۔اب کی بار انہوں نے خواب میں دیکھنا شروع کیا کہ دو بیل لیے سینگوں والے ان پر حملہ کرنا چاہتے ہیں اور یہ اُن سے بھاگتی پھرتی ہیں۔لیکن کہیں جائے مفر نہیں اور بعض دفعہ وہ حملہ کر بھی دیتے ہیں اور ان کے جسم کو اپنے سینگوں سے زخمی کر دیتے ہیں۔ہر دفعہ سونے پر ان کی یہی کیفیت ہوتی اور چند منٹ میں اُن کی آنکھ کھل جاتی۔اس طور پر گویا نیند حرام ہو گئی اور رات زاری اور دعاؤں میں گزرتی۔والد صاحب بھی اُن کے لئے بہت دعائیں کرتے۔لیکن یہ کیفیت پورا ایک مہینہ متواتر جاری رہی۔آخر مبینہ بھر کے استغفار اور دعاؤں کے بعد پھر والدہ صاحبہ نے دادا صاحب کو خواب میں دیکھا۔انہوں نے انہیں سخت تنبیہ کی اور فرمایا کہ اب آئندہ کے لئے تو بہ کا دروازہ بند ہے۔اگر پھر آپ نے یہ جرم کیا۔تو توبہ قبول نہیں ہوگی اور انہوں نے بیلوں کو روک دیا اور والدہ صاحبہ سے فرمایا۔اب بے فکر گزرجائیں۔لیکن ابھی ایک اور امتحان باقی تھا۔اس آخری تو بہ کے تھوڑے عرصہ کے اندر ہماری بڑی پھوپھی صاحبہ کا بڑا فرزند فوت ہو گیا اور والدہ صاحبہ ہماری داد کی صاحبہ، بچی صاحبہ اور ڈسکہ کی اور چند عورتوں کی ہمراہی میں ہماری پھوپھی صاحبہ کے ہاں ہمدردی اور اظہار افسوس کے لئے گئیں۔ان دنوں ہمارے دیہات میں رواج ہو اکرتا تھا کہ قریبی رشتہ دار عورتوں کے