میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 16 of 102

میری والدہ — Page 16

کے مزار پر لے گئے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مزار دکھایا۔یہ دونوں مزار ایک باغ میں نظر آتے تھے اور اُن کے سرہانے ایک فوارہ نہایت شفاف پانی کا چل رہا تھا۔والدہ صاحبہ نے اس فوارے کے پانی کے ساتھ وضو کیا اور آئندہ کے لئے اپنی اس کمزوری سے توبہ کی۔اس کے تھوڑا عرصہ بعد ہمارے قریبی رشتہ داروں میں کوئی اور موت ہوگئی اور والدہ صاحبہ کو ماتم پرسی کے لئے جانا پڑا اور اگر چہ اب ان کو خواب میں کافی تنبیہ ہو چکی تھی اور اُن کی طبیعت ما تم وغیرہ کی رسوم سے نفرت بھی کرنے لگ گئی تھی اور ڈرتی بھی تھیں۔لیکن پھر بھی بوجہ قریبی رشتہ داری کے اور شرکاء کے ملعن و تشنیع کے خوف سے ان رسوم سے بکلی پرہیز نہ کرسکیں۔اس کے بعد انہوں نے خواب میں دیکھا کہ ان کا جسم بیشمار چیونٹیوں سے لتھڑا ہوا ہے اور وہ ان سے نجات حاصل کرنے کی بہت کوشش کرتی ہیں۔لیکن کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوتی۔جس قدر چیونٹیوں کو وہ جسم سے اتار کر چھینکتی ہیں۔اس۔زیادہ اور ان کو چمٹ جاتی ہیں۔اس وحشت اور کرب میں اُن کی نیند کھل گئی اور پھر پے درپے کئی دفعہ اُن کے ساتھ خواب میں یہی کیفیت گزری۔انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ اس امر کی سزا ہے کہ میں تو بہ کرنے کے بعد اپنی تو بہ پر پورے طور پر قائم نہ رہ سکی۔چنانچہ انہوں نے بہت استغفار کیا اور اپنی تو بہ کا اعادہ کیا اور اس حالت پر چند دن گزرنے کے بعد پھر اُسی حالت میں ہمارے دادا صاحب کو خواب میں دیکھا۔انہوں نے فرمایا۔آپ نے بہت غلطی کی کہ تو بہ کے بعد پھر ایسی باتوں میں شمولیت لی۔اب آپ نے دوبارہ تو بہ کی ہے۔اس پر آپ مضبوطی سے قائم رہیں اور ایک چه در انہوں نے والدہ صاحبہ کو دی اور ایک شفاف تالاب کی طرف اشارہ کیا کہ آپ جا کر اس چادر کا پردہ کر کے اس تالاب میں غسل کر لیں۔والدہ صاحبہ فرمایا کرتی تھیں کہ جب نہیں اُس تالاب میں داخل ہوئی۔تو اس کے پانی کو نہایت شفاف اور