میری والدہ — Page 15
۱۵ تھے اور صبح کچہری کے کام کے لئے واپس سیالکوٹ آ جایا کرتے تھے۔ڈسکھ اور سیالکوٹ کے درمیان سیدھی سڑک سے ۱۶ میل کا فاصلہ ہے۔چونکہ یہ سڑک بچی ہے۔اس لئے والد صاحب گھوڑے پر ید سفر کیا کرتے تھے۔گویا اُن دنوں ہر روز سردی میں (فروری کا مہینہ تھا ) ۳۲ میل سواری کیا کرتے تھے اور تمام دن کچہری میں کام بھی کیا کرتے تھے۔اس کے علاوہ گھر پر بھی مقدمات کی تیاری کے لئے وقت نکالتے ہوں گے۔جس دن ہمارے دادا صاحب کی وفات ہوئی۔اُس دن والد صاحب اُن کے پاس ڈسکہ ہی میں تھے۔ہماری والدہ صاحبہ اور ہم تین بچے (میں اور ہماری ہمشیرہ صاحبہ اور عزیز شکر اللہ خان سیالکوٹ میں تھے۔ہمیں تارکے ذریعہ یہ خبر لی اور والدہ صاحبہ ہمیں لے کر اُسی وقت ڈسکہ روانہ ہوگئیں۔جب ہم ڈسکہ پہنچے۔تو ہمارے گھر میں اور مہمان خانہ میں ایک بہت بڑا ہجوم تھا اور دادا صاحب کے جنازہ کے ساتھ اس قد را نبوہ خلقت کا تھا کہ بازار میں سے گزرنے پر لوگوں کو دکا نہیں بند کرنی پڑیں۔دادا صاحب کی وفات ہمارے خاندان کے لیئے بہت بڑا صدمہ تھا اور چونکہ والدہ صاحبہ کے ساتھ انہیں خاص محبت اور شفقت کا تعلق تھا۔اس لئے والدہ صاحبہ نے اس صدمہ کو بہت محسوس کیا اور جیسا ان ایام میں رواج تھا۔اُن کے ماتم میں بہت بڑھ کر حصہ لیا۔میں ذکر کر چکا ہوں کہ ہمارے دادا صاحب کو ایسی رسوم سے سخت نفرت تھی۔چنانچہ کچھ عرصہ اُن کی وفات کے بعد والدہ صاحبہ نے انہیں خواب میں دیکھا اور اُنہوں نے والدہ صاحبہ کو ساتھ لے جا کر جہنم کا ایک نظارہ دکھایا۔جہاں چند عورتوں کو دردناک عذاب دیا جارہا تھا اور بتایا کہ یہ وہ عورتیں ہیں جو ماتم کیا کرتی تھیں اور جزع فزع کرتی تھیں۔آپ اس نظارہ سے عبرت حاصل کریں اور ایسی باتوں ہے آئندہ کے لئے تو بہ کریں اور پھر دادا صاحب والدہ صاحبہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم