میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 94 of 102

میری والدہ — Page 94

۹۴ ایک احراری ایجنٹ نے عزیزم میاں شریف احمد صاحب پر راستہ میں لاٹھی سے حملہ کیا تھا۔جب انہیں ان حالات کا علم ہوا تو انہیں سخت تکلیف ہوئی۔بار بار چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سے کہتی تھیں۔ظفر اللہ خاں میرے دل کو کچھ ہوتا ہے اماں جان ( حضرت ام المومنین) کا دل تو بہت کمزور ہے۔ان کا کیا حال ہوگا۔کچھ دنوں بعد چوہدری صاحب گھر میں داخل ہوئے تو انہیں معلوم ہوا۔جیسے مرحومہ اپنے آپ سے کچھ باتیں کر رہی ہیں۔انہوں نے پوچھا کہ بے بے جی کیا بات ہے۔تو مرحومہ نے جواب دیا کہ میں وائسرائے سے باتیں کر رہی تھی چوہدری صاحب نے کہا کہ آپ سچ سچ ہی کیوں باتیں نہیں کر لیتیں۔انہوں نے کہا کیا اس کا انتظام ہو سکتا ہے؟ چوہدری صاحب نے کہا کہ ہاں ہو سکتا ہے۔اس پر انہوں نے کہا بہت اچھا پھر انتظام کر دو۔قرآنی تعلیم کے مطابق ان کی عمر میں وہ پردہ تو تھا ہی نہیں جو جوان عورتوں کے لئے ہوتا ہے۔وہ وائسرائے سے ملیں اور چوہدری صاحب ترجمان بنے۔لیڈی ولنگڈن بھی پاس تھیں۔چوہدری صاحب نے صاف کہہ دیا کہ میں کچھ نہیں کہوں گا جو کہنا ہو خود کھنہ چنانچہ مرحومہ نے لارڈ ولنگڈن سے نہایت جوش سے کہا کہ میں گاؤں کی رہنے والی عورت ہوں۔میں نہ انگریزوں کو جانوں اور نہ ہی ان کی حکومت کے اسرار کو ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا تھا کہ انگریزی قوم اچھی قوم ہے اور ہمیشہ تمہاری قوم کے متعلق دل سے دعائیں نکلتی تھیں۔جب بھی تمہاری قوم کے لئے مصیبت کا وقت آتا تھا۔رورو کر دعائیں کیا کرتی تھیں کہ اے اللہ تو انکا حافظ و ناصر ہو۔تو ان کو تکلیف سے بچائیو۔لیکن اب جو کچھ جماعت سے خصوصا قادیان میں سلوک ہو رہا ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دعا تو میں اب بھی کرتی ہوں۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حکم ہے۔لیکن اب دعا دل سے نہیں نکلتی۔کیونکہ اب میرا دل خوش نہیں ہے۔آخر ہم لوگوں نے کیا کیا ہے کہ اس رنگ میں ہمیں تکلیف دی جاتی ہے۔