میری والدہ — Page 70
رسوم اور بدعات سے بیزاری چوہدری بشیر احمد صاحب ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ والدہ صاحبہ کو بدعات اور رسوم سے کس قدر نفرت تھی۔وہ کہتے ہیں۔میری شادی کا موقعہ تھا۔نکاح کے بعد مجھے زنانہ میں بلایا گیا۔میں نے دیکھا کہ جیسے دیہات میں رواج ہے۔دو نشستوں کا ایک دوسرے کے مقابل انتظام کیا گیا ہے اور مجھ سے توقع کی جارہی ہے کہ میں ایک نشست پر بیٹھ جاؤں اور دوسری پر دلہن کو بٹھا دیا جائے اور بعض رسوم ادا کی جائیں۔جنہیں پنجابی میں بیٹڑو گھوڑی کھیلنا" کہتے ہیں۔میں دل میں گھبرایا۔لیکن پھر میں نے خیال کیا کہ اس وقت عورتوں کے ساتھ بحث اور ضد مناسب نہیں اور میں اُس نشست پر جو ے لئے تجویز کی گئی تھی بیٹھ گیا اور ان اشیاء کی طرف جو اس رسم کے لئے مہیا کی میں تھیں، ہاتھ بڑھایا۔اتنے میں ممانی صاحبہ ( خاکسار کی والدہ صاحبہ ) نے میرا ہاتھ کلائی سے مضبوط پکڑ کر پیچھے ہٹادیا اور کہا نہ بیٹا یہ شرک کی باتیں ہیں۔اس سے مجھے بھی حوصلہ ہو گیا۔میں نے اُن اشیاء کو اپنے ہاتھ کے ساتھ بکھیر دیا اور کھڑے ہو کر کہہ دیا کہ میں ان رسوم میں شامل نہیں ہونگا اور اس طرح میری مخلصی ہوئی۔میری لڑکی کی پیدائش کے متعلق والدہ صاحبہ کا رویا مئی ۱۹۳۶ ء میں والدہ صاحبہ نے رویا دیکھا کہ کوئی خادم ایک طشتری لایا ہے جس میں آم کی قسم کے پانچ عدد پھل اور پانچ روپے رکھے ہیں اور ایک طلائی زیور ہے۔جسے پنجابی میں تیلا یا تھیلی کہتے ہیں اور جو ناک میں پہنا جاتا ہے۔اس خادم نے والدہ صاحبہ کا نام لیا کہ وہ یہ پھل لائے ہیں۔والدہ صاحبہ نے رویا ہی میں کہا۔یہ تو وہی پھل ہے جو انہوں نے کہا تھا کہ پکی گا تو میں خود طشتری میں رکھ کر لاؤں گا۔